Read in English  
       
KTR Slams Government

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگذار صدر کے تارک راما راو (کے ٹی آر) نے پیر کے روز فصلوں کی خریداری میں تاخیر پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سنگاریڈی ضلع کے سداشیو پیٹ میں چنے کی خریداری مرکز کا دورہ کیا اور کسانوں سے براہ راست بات چیت کی۔ مزید برآں، انہوں نے کسانوں کو یقین دلایا کہ بی آر ایس ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

پس منظر میں، کسانوں نے شکایت کی کہ حکومت بروقت فصلوں کی خریداری نہیں کر رہی جس کے باعث انہیں مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ خریداری نظام کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اسی دوران، یہ مسئلہ ریاست بھر میں ایک اہم سیاسی موضوع بن گیا ہے۔

احتجاج کا اعلان | KTR Slams Government

کے ٹی راما راو نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راو کے دور میں رعیتو بندھو اسکیم کے تحت کسانوں کو بروقت ادائیگیاں کی جاتی تھیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے فصلوں کی خریداری میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس صورتحال کو کسان مخالف قرار دیا۔

کے ٹی آر نے مطالبہ کیا کہ حکومت دھان، جوار اور چنے کی فصلوں کو کم از کم امدادی قیمت پر خریدے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کسانوں کے حق میں ریاست بھر میں احتجاج کو تیز کرے گی۔ اس لیے پارٹی نے اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی کارکنوں کو ہدایات | KTR Slams Government

کے ٹی راما راو نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ ہفتے خریداری مراکز کا معائنہ کریں اور حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ تحصیلداروں اور آر ڈی اوز کو یادداشتیں پیش کی جائیں تاکہ مسائل کو اجاگر کیا جا سکے۔ اسی دوران، انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ بھر میں کسانوں کے مسائل پر حکومت سے سوال کریں۔

آخر میں، کے ٹی آر نے واضح کیا کہ کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر سیاسی سرگرمیوں میں مزید شدت متوقع ہے۔