Custody Probe
حیدرآباد ۔ تلگو ریاستوں میں وسیع توجہ حاصل کرنے والے پوکسو مقدمے کے ملزم بنڈی بھاگیرتھ کو پولیس تحویل مکمل ہونے کے بعد عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پولیس نے بدھ کے روز اسے نامپلی عدالت میں پیش کیا جہاں تحویل کی مدت ختم ہونے کے بعد سماعت ہوئی۔
سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت سکیورٹی کے درمیان اسے چرلاپلّی سینٹرل جیل منتقل کر دیا۔ یہ مقدمہ ایک کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزامات سے متعلق ہے۔
اس سے قبل تفتیشی حکام نے شواہد اکٹھا کرنے اور مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کے لیے ملزم کی تحویل حاصل کی تھی۔ پولیس کے مطابق اس دوران تحقیقات سے متعلق کئی اہم معلومات اور شواہد جمع کیے گئے۔
ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تفتیش | Custody Probe
پولیس تحویل کے پہلے دن ملزم کو چرلاپلّی جیل سے میدچل گورنمنٹ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے طبی معائنے کرائے گئے۔ اس کے بعد تفتیشی ٹیم اسے معائنہ موقع کے لیے معین آباد میں واقع آرنیا فارم ہاؤس لے گئی تاکہ مبینہ واقعات کی ترتیب کا جائزہ لیا جا سکے۔
دوسرے دن پولیس نے گچی باؤلی کے ایک سروس اپارٹمنٹ میں ملزم سے تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ مزید برآں، تفتیشی حکام نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کے ساتھ انسٹاگرام، واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ پر ہونے والی گفتگو سے متعلق ڈیجیٹل شواہد بھی اس کے سامنے رکھے۔
مختلف شواہد اور بیانات کا جائزہ | Custody Probe
پولیس نے دورانِ تفتیش ملزم کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ اس کے علاوہ متاثرہ لڑکی، اس کی والدہ اور فارم ہاؤس جانے والے ملزم کے دوستوں کے بیانات پہلے ہی قلمبند کیے جا چکے تھے۔
دریں اثنا، تفتیشی حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ڈیٹا ریکارڈز اور متاثرہ لڑکی کی والدہ کی جانب سے فراہم کردہ کال ریکارڈنگز کا بھی جائزہ لیا۔ پولیس نے ان تمام نکات پر ملزم سے سوالات کیے اور اس کے جوابات کو جاری تفتیش کا حصہ بنایا۔
حکام کے مطابق تحقیقات مختلف زاویوں سے جاری ہیں اور جمع کیے گئے شواہد کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقدمے کے اہم پہلوؤں کو واضح کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
