Farm Power Dispute
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راو نے پارٹی رہنما بالکا سمن کے حالیہ بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے یہ تبصرہ غلطی سے کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس بیان کو مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حیدرآباد میں منعقدہ “میٹ دی پریس” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راو نے سوال اٹھایا کہ بالکا سمن کے بیان پر تنقید کرنے والے افراد وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے بعض متنازع بیانات پر خاموش کیوں رہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ بھی ماضی میں سیاسی تقاریر کے دوران سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔
بالکا سمن کے بیان پر وضاحت | Farm Power Dispute
کے ٹی راما راو نے کہا کہ بالکا سمن کے ریمارکس ایک غلطی کا نتیجہ تھے، لیکن ان پر ہونے والی تنقید کو یکطرفہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیتے وقت یکساں معیار اپنایا جانا چاہیے۔
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت مختلف معاملات میں عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو اس وقت کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے جن پر سنجیدہ توجہ درکار ہے۔
دریں اثنا کے ٹی راما راو نے زرعی پمپ سیٹس پر بجلی میٹر نصب کرنے کے معاملے پر بھی کانگریس حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے مالی امداد کو بجلی میٹروں کی تنصیب سے مشروط کر دیا ہے۔
زرعی بجلی میٹروں پر حکومت کو ہدف تنقید | Farm Power Dispute
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق کے سی آر نے مرکزی فنڈز سے محرومی کے باوجود زرعی پمپ سیٹس پر میٹر نصب کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
کے ٹی راما راو نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے مرکز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آر ڈی ایس ایس اسکیم میں شمولیت اختیار کی تاکہ بجلی میٹر نصب کیے جا سکیں۔ انہوں نے کسانوں کیلئے الگ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے قیام کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس مطالبے کی ضرورت آخر کس نے محسوس کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کسانوں کے مفادات کو متاثر کر سکتی ہے اور مفت بجلی کے معاملے پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور زرعی شعبے کیلئے بلاشرط مفت بجلی کی فراہمی جاری رکھے۔
کے ٹی راما راو نے زور دے کر کہا کہ پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کا اضافی بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنا چاہیے اور حکومت کو اس سلسلے میں واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔
