Cancer Prevention
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر صحت دامودر راجا نرسمہا نے ریاست میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت، طبی ماہرین اور رضاکارانہ تنظیموں کے درمیان مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔
وزیر صحت نے یہ بات حیدرآباد میں بسواتارکم انڈو-امریکن کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سلور جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بدلتا ہوا طرز زندگی کینسر کے کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
ان کے مطابق غذائی عادات، ماحولیاتی آلودگی اور جینیاتی عوامل بھی بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ہر سال تقریباً 50,000 سے 55,000 نئے کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ کینسر نہ صرف مریض بلکہ اس کے خاندان پر بھی جذباتی، سماجی اور مالی دباؤ ڈالتا ہے۔ لہٰذا اس بیماری کی روک تھام اور بروقت تشخیص کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
بروقت تشخیص پر خصوصی توجہ | Cancer Prevention
دامودر راجا نرسمہا نے کہا کہ ریاستی حکومت کینسر کی روک تھام اور علاج کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے کینسر کو نوٹیفائی ایبل بیماری قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی سطح پر کینسر رجسٹری قائم کی گئی ہے جبکہ ایک خصوصی کینسر پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات اور ابتدائی تشخیص کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
مزید یہ کہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت مستحق مریضوں کو مفت یا رعایتی علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ خدمات سرکاری اسپتالوں اور منظور شدہ نجی اسپتالوں میں دستیاب ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ علاج کے اخراجات کی وجہ سے کوئی بھی خاندان غربت کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے بساوتارکم ہاسپٹل کو کینسر کے علاج کے شعبے میں 25 سال مکمل کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔
اس موقع پر انہوں نے ہاسپٹل کے چیئرمین ننداموری بالاکرشنا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ این ٹی راما راو کے وژن کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
آندھرا پردیش میں بھی توسیعی منصوبے | Cancer Prevention
دریں اثنا، آندھرا پردیش کے وزیر صحت ستیہ کمار یادو نے امراوتی میں 1,000 بستروں پر مشتمل بساوتارکم کینسر ہاسپٹل قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ ادارہ ریاست میں خصوصی کینسر علاج کی سہولتوں کو مزید وسعت دے گا۔
انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش میں ہر سال تقریباً 40,000 نئے کینسر کیسز سامنے آتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں ریاست نے کینسر کی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق گنٹور اسٹیٹ کینسر سینٹر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ کڑپہ اور وشاکھاپٹنم میں بھی جدید طبی سہولتیں تیار کی گئی ہیں۔ مزید برآں، آگاہی مہمات اور مفت اسکریننگ پروگراموں کے ذریعے بیماری کی بروقت شناخت میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات بھی علاج اور مریضوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ چنانچہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے صحت عامہ کے شعبے کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔
కేన్సర్ నియంత్రణలో ప్రభుత్వం, స్వచ్చంద సంస్థలు, వైద్య నిపుణులు కలిసి పనిచేయాల్సిన అవసరం ఉందని ఆరోగ్య శాఖ మంత్రి దామోదర్ రాజనర్సింహ అన్నారు.
హైదరాబాద్ నోవాటెల్లో జరిగిన బసవతారకం ఇండో-అమెరికన్ క్యాన్సర్ హాస్పిటల్ అండ్ రీసెర్చ్ ఇన్స్టిట్యూట్ సిల్వర్ జూబ్లీ ముగింపు వేడుకల్లో… pic.twitter.com/amCUiPgWQ3
— Damodar Raja Narasimha (@DamodarCilarapu) June 22, 2026
