Read in English  
       
Millet Distribution

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے راشن کارڈ رکھنے والوں کو چاول کے ساتھ جوار فراہم کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع کردیا ہے۔ حکومت اس نئی اسکیم کے تحت پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم میں غذائیت سے بھرپور اناج شامل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ مزید برآں اس اقدام کا مقصد عوام میں غذائی قلت کو کم کرنا اور صحت بخش خوراک کے استعمال کو فروغ دینا بتایا جارہا ہے۔

ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ مارکفیڈ کے ذریعے خریدی گئی جوار اور مکئی کو راشن دکانوں کے ذریعے عوام تک پہنچانے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ غذائیت سے بھرپور اناج کے استعمال میں اضافہ عوامی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

گروکل اور ہاسٹلز میں بھی جوار شامل | Millet Distribution

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری گروکل اداروں اور ویلفیئر ہاسٹلز میں فراہم کیے جانے والے کھانوں میں بھی جوار شامل کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے طلبہ میں غذائیت کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی دوران غذائیت سے بھرپور خوراک کے استعمال کو عام کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بیداری مہمات چلانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جوار اور دیگر ملیٹس میں غذائی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت امید کررہی ہے کہ اس فیصلے سے عوام میں متوازن غذا کے رجحان کو فروغ ملے گا۔

کسانوں کو بہتر قیمت دلانے کا منصوبہ | Millet Distribution

تلنگانہ حکومت نے جوار اور مکئی کی کاشت کرنے والے کسانوں کی مدد کے لیے بھی اہم فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے طے کیا کہ منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باعث حکومت کسانوں سے براہ راست خریداری کرے گی تاکہ انہیں مناسب معاوضہ مل سکے۔

زرعی وزیر تملا ناگیشور راو نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے تعاون نہ بھی ملا تو ریاست اپنی مالی وسائل سے خریداری جاری رکھے گی۔ مزید برآں حکام نے اعلان کیا کہ ربیع 2026 سیزن کے دوران ریاست بھر میں خصوصی خریداری مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ کسان آسانی سے اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔

ادھر کسان تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب قیمت کی ضمانت ملنے سے کسان جوار اور مکئی کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے، جس سے زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔