حیدرآباد: تلنگانہ میں مقامی اداروں کے انتخابات کے انعقاد پر ابہام برقرار ہے کیونکہ حکومت تاحال بی سی ریزرویشن کے مسئلے کو حل نہیں کر سکی۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ 30 ستمبر تک انتخابی عمل مکمل کیا جائے۔ دریں اثنا ناقدین کا کہنا ہے کہ ریونت ریڈی حکومت نے بی سی ریزرویشن بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس پس منظر میں Telangana Jagruthi Protest نے زور پکڑ لیا ہے۔
جمعہ کے دن ایم ایل سی کے۔ کویتا کی قیادت میں تلنگانہ جاگروتی نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت پیغام جاری کیا۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت بی سی طبقے کے ساتھ نظرانداز کا رویہ اختیار کر رہی ہے اور کیا اس کی نیت واقعی مخلص ہے؟
تلنگانہ جاگروتی کے مطالبات
جاگروتی نے کہا کہ حکومت وقت گزاری کر رہی ہے جبکہ ہائی کورٹ کی مقررہ مہلت قریب آ رہی ہے۔ اس نے نشاندہی کی کہ بعض وزراء کہتے ہیں انتخابات 30 ستمبر سے پہلے ہوں گے، جبکہ دیگر کہتے ہیں کہ یہ صرف کوٹہ بڑھانے کے بعد ہی ہوں گے۔ تنظیم نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ متضاد بیانات دے کر بی سی برادریوں کو گمراہ کر رہی ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ مقامی اداروں میں بی سی ریزرویشن 42 فیصد تک بڑھایا جائے۔ انتباہ دیا گیا کہ اگر حکومت نے جلد فیصلہ نہیں کیا تو کارکن وزراء کے کوارٹرز کا گھیراؤ Telangana Jagruthi Protest کریں گے۔ تلنگانہ جاگروتی نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں مزید براہ راست احتجاجی تحریکیں چلائی جائیں گی۔
బీసీలంటే చులకనా?
ఏం చేస్తారులే అన్న పట్టింపులేని తనమా !?స్థానిక ఎన్నికలకు హైకోర్టు పెట్టిన గడువు ముంచుకొస్తోంది. అయినా బీసీ రిజర్వేషన్ల పెంపునకు ఈ ప్రభుత్వం చేసిన ప్రయత్నమేది లేదు
బీసీ రిజర్వేషన్లు పెంచాలంటే సాకులు.. కొర్రీలు.. దాటవేతలు
ఏది ఏమైనా సెప్టెంబర్ 30లోపు ఎన్నికలు…
— Telangana Jagruthi (@TJagruthi) September 19, 2025
