Read in English  
       
Kavitha Political Move

حیدرآباد ۔ خیرت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے الزام لگایا ہے کہ کے کویتا کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے پر غور کے پیچھے سیاسی نہیں بلکہ خاندانی اختلافات کارفرما ہیں۔ تاہم ان کے بیان نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

مزید برآں، دانم ناگیندر نے حالیہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کویتا کو تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر اس بیان پر جس میں انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راو کو “روبوٹ” قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق ایسے بیانات خاندانی اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں نہ کہ سیاسی حکمت عملی کی۔

خاندانی اختلافات یا سیاسی حکمت عملی | Kavitha Political Move

دانم ناگیندر نے کہا کہ کویتا کی نئی سیاسی سمت دراصل خاندان کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے اس الزام کو مسترد کیا کہ کانگریس حکومت کے تحت تلنگانہ میں “راکششا پالنا” ہو رہی ہے۔

اسی دوران، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں کانگریس حکومت ایک مثالی انتظامیہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ان کے مطابق فلاحی اسکیمیں مؤثر طریقے سے عوام تک پہنچ رہی ہیں، جس سے حکومت کی کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔

فلاحی اسکیمیں اور حکومتی دعوے | Kavitha Political Move

دانم ناگیندر نے فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر حلقے میں جلد 3,500 اندراما مکانات منظور کیے جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومت غریب خاندانوں کے لیے رہائش کے خواب کو پورا کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

دریں اثنا، انہوں نے زور دیا کہ حکومت محض سیاسی تنقید میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عوامی بہبود پر کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر کئی مقامی رہنما اور تحصیلدار بھی موجود تھے، جہاں انہوں نے یہ بیانات دیے۔

آخر میں، یہ پیش رفت تلنگانہ کی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خاندانی اور سیاسی عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔