Read in English  
       
NEET Leak

حیدرآباد ۔ بی آر ایس وی قائدین نے نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ کے خلاف لوک بھون کے قریب احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ امتحانی نظام میں مسلسل بے ضابطگیوں کے سبب لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔ اس احتجاج کے دوران طلبہ تنظیموں نے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

بی آر ایس وی کے ریاستی صدر گیلو سرینواس یادو نے کہا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک بھر کے تقریباً 24 لاکھ طلبہ کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال دیا گیا۔ مزید برآں انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو امتحان کے انعقاد میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

امتحانی نظام پر سوالات | NEET Leak

احتجاج کے دوران گیلو سرینواس یادو نے سوال کیا کہ دن رات محنت کرنے والے طلبہ کو آخر پیپر لیک جیسے واقعات ہی کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں مسلسل پیپر لیک واقعات کا مرکز بن چکی ہیں۔ اسی لیے طلبہ میں امتحانی نظام پر اعتماد کمزور ہورہا ہے۔

بی آر ایس وی قائد نے کہا کہ حکام نے رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کردیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے الزام لگایا کہ مالی فائدہ کے لیے آن لائن امتحانات سے گریز کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کو تجارتی شکل دینا اور طلبہ کی زندگیوں سے کھیلنا ناقابل قبول ہے۔

مرکزی وزراء کے استعفیٰ کا مطالبہ | NEET Leak

گیلو سرینواس یادو نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے این ٹی اے ڈائریکٹر جنرل اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک معاملہ میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی کیلنڈر کو متاثر کیے بغیر جلد از جلد نئے امتحانی شیڈول کا اعلان کیا جائے۔ اسی دوران مظاہرین نے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے شفاف اور مضبوط امتحانی نظام قائم کرنے پر زور دیا۔