Read in English  
       
Boiled Rice Proposal

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے مرکز سے ابلے چاول کی خریداری اور زیر التوا واجبات کی ادائیگی کے لیے یادداشت پیش کی ہے۔ انہوں نے شہری رسدات کے وزیر این اتم کمار ریڈی کے ہمراہ دہلی میں مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے ملاقات کی۔ مزید برآں، اس ملاقات میں ریاست کی اہم زرعی ضروریات کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔

پس منظر کے طور پر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یاسنگی سیزن میں حاصل ہونے والی دھان کی فصل ابلے چاول بنانے کے لیے موزوں ہے۔ تاہم، انہوں نے گزشتہ 6 سیزنز کے دوران فراہم کیے گئے کسٹم ملنگ رائس کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ اسی لیے، انہوں نے ریاست کی پیداوار اور صلاحیت کو اجاگر کیا۔

ابلے چاول کی فراہمی کی تجویز | Boiled Rice Proposal

ریاستی حکومت کے مطابق اس یاسنگی سیزن میں تقریباً 90 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی پیداوار متوقع ہے۔ مزید یہ کہ، اس فصل کو ابلے چاول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تلنگانہ 30 لاکھ میٹرک ٹن ابلے چاول 5 فیصد ٹوٹے دانے کے ساتھ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ ریاست 5 لاکھ میٹرک ٹن خام چاول بھی 10 فیصد ٹوٹے دانے کے ساتھ فراہم کر سکتی ہے۔ مزید برآں، مرکزی وزارت کے حکام نے پہلے ہی قومی طلب میں اضافے کے باعث ابلے چاول کی فراہمی بڑھانے کی تجویز دی تھی۔ نتیجتاً، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واجبات اور اسکیموں پر زور | Boiled Rice Proposal

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کسانوں کو خریداری کے 48 گھنٹوں کے اندر ادائیگی یقینی بناتی ہے۔ تاہم، انہوں نے مرکز سے 1,468.94 کروڑ روپے کے زیر التوا واجبات جاری کرنے کی اپیل کی۔ یہ رقم 2014-15 خریف سیزن کی اضافی لیوی خریداری سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز کی تاخیر سے شہری رسدات محکمہ متاثر ہو رہا ہے۔ لہٰذا، فوری طور پر اس رقم کی ادائیگی ضروری ہے۔ اسی دوران، انہوں نے فورٹیفائیڈ چاول کی تقسیم دوبارہ شروع کرنے کی بھی درخواست کی، جو اسکولوں، ہاسٹلز اور آئی سی ڈی ایس مراکز میں غذائیت کے لیے اہم تھی۔

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے اس تجویز کو اصولی طور پر منظوری دی، تاہم مزید فیصلے ضابطہ کار کے مطابق کیے جائیں گے۔ اختتامیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ پیش رفت تلنگانہ کے کسانوں اور زرعی نظام کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔