Read in English  
       
Mohammed Ali Shabbir

حیدرآباد: کانگریس کے سینئر رہنما اور سرکاری مشیر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس نے تلنگانہ کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں 42 فیصد بی سی ریزرویشن کو روکنے کے لیے باہمی سازش کی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے عوام کو گمراہ کیا اور عدالت کے حکم امتناعی کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے۔

تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے انتخابی نوٹیفکیشن پر حکمِ امتناعی جاری ہونے کے بعد شبیر علی نے کہا کہ یہ قدم سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

ان کے مطابق، بی جے پی اور بی آر ایس نے وہی کوٹہ روکنے کی کوشش کی جسے وہ پہلے خود سپورٹ کر چکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد کانگریس نے اسمبلی میں دو بار بل منظور کیا جس کے ذریعے بی سی ریزرویشن 42 فیصد تک بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ یہ موجودہ حکومت کا پہلا قانون سازی اقدام تھا۔

بی سی کمیشن کی رپورٹ پر مبنی فیصلہ | Mohammed Ali Shabbir

شبیر علی نے واضح کیا کہ بل بی سی کمیشن کی رپورٹ پر مبنی تھا جس میں بتایا گیا کہ بی سیز ریاست کی آبادی کا تقریباً 56 فیصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 42 فیصد ریزرویشن مکمل طور پر اعداد و شمار اور آئینی دفعات کے مطابق ہے، اور اسے روکنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدام سماجی انصاف کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے جسے سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔

Mohammed Ali Shabbir

عدالتی کارروائی اور سیاسی رکاوٹیں | Mohammed Ali Shabbir

شبیر علی، جو اس مقدمے میں بطور فریق شامل ہوئے ہیں، نے بتایا کہ وہ وزرا کے ہمراہ عدالت کی سماعت میں شریک ہوئے۔

انہوں نے گورنر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بل کو مرکز بھیجنے میں غیر ضروری تاخیر کی، جس کے باعث یہ قانون پرانے پنچایت راج ضوابط کی جگہ نہیں لے سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے اس بل کو نویں شیڈول میں شامل ہونے سے بھی روکا جبکہ بی آر ایس نے وہ پٹیشن داخل کی جس کے نتیجے میں عدالت کا حکم امتناعی آیا۔

ان کے مطابق، ’’بی جے پی اور بی آر ایس دونوں نے مل کر بی سیز کو ان کا جائز حق دینے سے روکا۔‘‘

کانگریس کا عزم اور آئندہ لائحہ عمل | Mohammed Ali Shabbir

شبیر علی نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ 42 فیصد بی سی کوٹہ کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے کئی مواقع پر اس اقدام کی کھل کر حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو عدالت کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، اور مکمل فیصلہ آنے کے بعد حکومت آئندہ حکمت عملی طے کرے گی۔

ان کے مطابق، کانگریس حکومت بی سیز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی و سیاسی راستہ اختیار کرے گی۔

محمد علی شبیر نے کہا کہ 42 فیصد ریزرویشن صرف ایک سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ انصاف کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن پروپیگنڈے پر یقین نہ کریں اور اس فیصلے کے حق میں آواز بلند کریں۔