حیدرآباد: شہر کے ایسٹ ماریڈ پلی میں ایک فلیٹ میں ہونے والی سنگین ڈکیتی کے معاملے میں کمشنر ٹاسک فورس سکندرآباد زون اور لالہ گوڑا پولیس نے بین ریاستی گینگ کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے تقریباً 28.8 گرام وزنی سونے کے زیورات برآمد کیے جن کی مالیت ₹4.5 لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ چنانچہ، اس کارروائی سے علاقے میں پھیلی تشویش کم ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق، 21 جنوری کو آریہنت سدن اپارٹمنٹ میں شرتھ نریش کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہو کر خاتون کو یرغمال بنایا گیا۔ ملزمان نے تشدد کے بعد زیورات لوٹ لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔ بعدازاں، 27 جنوری کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تینوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پس منظر کے طور پر، مرکزی ملزم گرپّا گاری مہیش اسی اپارٹمنٹ میں اکتوبر 2021 سے مئی 2024 تک واچ مین کے طور پر کام کر چکا تھا۔ اسی واقفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے ساتھیوں چنّی کوٹلہ پون کمار اور گیجو سریندر کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی۔ تینوں کا تعلق آندھرا پردیش کے شری ستیہ سائی ضلع کے چیکی ریوولا پلی گاؤں سے بتایا گیا ہے۔
کرناٹک فرار، پھر گرفتاری | Gold Robbery
واردات کے روز مہیش اور پون کمار نے فلیٹ نمبر 301 میں داخل ہو کر خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور زیورات لوٹ لیے۔ اس کے بعد وہ سکندرآباد پہنچے جہاں سریندر ان کا منتظر تھا۔ بعدازاں، تینوں کرناٹک فرار ہو گئے اور لوٹا گیا سونا آپس میں تقسیم کر لیا۔ تاہم، خفیہ اطلاعات اور مسلسل نگرانی کے بعد پولیس نے انہیں دبوچ لیا۔
مجرمانہ پس منظر اور تفتیش | Gold Robbery
پولیس کے مطابق، مہیش کے خلاف 2024 میں کارخانہ پولیس اسٹیشن میں اغوا کے 2 مقدمات درج ہیں، جبکہ پون کمار 2019 میں بنگلورو کے ایک قتل کیس میں ملوث رہ چکا ہے۔ لالہ گوڑا پولیس اسٹیشن میں درج کیس نمبر 17/2026 کے تحت تفتیش کے لیے 5 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ نتیجتاً، مربوط حکمت عملی سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
یہ کارروائی سکندرآباد زون کی ڈی سی پی رکشیتا کے مورتی اور ٹاسک فورس ڈی سی پی گائیکواڑ ویبھو رگھوناتھ کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق، اس طرح کی کارروائیاں جرائم پر قابو پانے کے لیے جاری رہیں گی۔
