Snake Bite Death
حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے ایک 30 سالہ تاجر کی سانپ کے کاٹنے سے موت ہوگئی جس کے بعد یہ واقعہ افسوسناک انجام اختیار کر گیا۔ یہ واقعہ چیویلا منڈل کے موڈی میال گاؤں کے سروے نمبر 116 میں واقع ایک فارم ہاؤس پر پیش آیا، تاہم اس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔
پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت نواب سید خمیس محی الدین حسینی کے طور پر ہوئی ہے جو حیدرآباد کے عطاپور سرکل حدود میں واقع قادری ہلز کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حسینی اپنے چند دوستوں کے ساتھ فارم ہاؤس میں موجود تھے جب ایک چھوٹا زہریلا سانپ وہاں نمودار ہوا۔
دوستوں کو ڈرانے کی کوشش | Snake Bite Death
پولیس کا کہنا ہے کہ حسینی نے مبینہ طور پر اپنے دوستوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے سانپ کو ننگے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ اسی دوران سانپ نے ان کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر کاٹ لیا۔
تحقیقات کے مطابق ان کے دوستوں نے انہیں سانپ کو ہاتھ نہ لگانے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے اس تنبیہ کو نظر انداز کر دیا۔ کچھ وقت بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی اور ان میں مختلف جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔
اسپتال میں علاج کے دوران موت | Snake Bite Death
حسینی کی حالت خراب ہونے پر ان کے دوست انہیں فوری طور پر ایک نجی اسپتال لے گئے جہاں ابتدائی علاج فراہم کیا گیا۔ تاہم طبیعت مزید بگڑنے پر ڈاکٹروں نے انہیں عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کر دیا۔
علاوہ ازیں ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی اور وہ دورانِ علاج انتقال کر گئے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور 3 بچے شامل ہیں جن پر اس واقعے سے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
پولیس تحقیقات کا آغاز | Snake Bite Death
واقعے کے بعد چیویلا پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جا سکیں۔
مزید برآں حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ زہریلے جانوروں خصوصاً سانپوں کو ہاتھ لگانے یا پکڑنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ معمولی لاپروائی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
