Read in English  
       
Liquor Licence Fee

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے شراب کی نئی پالیسی متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس میں Liquor Licence Feeمیں اضافہ اور دکانوں کی الاٹمنٹ کے عمل کو مقامی بلدیاتی انتخابات سے قبل مکمل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔

محکمہ آبکاری کے عہدیداروں کے مطابق، وائن شاپ لائسنس کے لیے درخواست فیس کو موجودہ 2 لاکھ روپئے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپئے کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، لائسنس کی مدت کو بھی 2 سال سے بڑھا کر 3 سال کرنے کی منظوری متوقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مکمل عمل اگست میں مکمل کیا جائے گا تاکہ ستمبر میں متوقع مقامی انتخابات سے قبل ماڈل ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ پچھلے سال 2023 کے لیے لائسنس درخواستیں 4 سے 18 اگست کے درمیان حاصل کی گئی تھیں، اور 21 اگست کو لاٹری کے ذریعے 2,620 دکانوں کی الاٹمنٹ ہوئی تھی، جن میں 690 دکانیں حیدرآباد میں تھیں۔ موجودہ لائسنس 30 نومبر 2025 کو ختم ہو رہے ہیں۔

نئی پالیسی میں گوڑ، درج فہرست ذات (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) کے لیے موجودہ ریزرویشن جاری رکھنے کی بھی توقع ہے۔ محکمہ اگست میں درخواستیں حاصل کرکے لاٹری عمل مکمل کرنا چاہتا ہے۔

صرف درخواست فیس سے حکومت کو تقریباً 3,500 کروڑ روپئے کی آمدنی کی توقع ہے، جو پچھلے سال کے 2,460 کروڑ روپئے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ اضافہ فیس میں اضافے اور بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب ہوگا۔

یہ 2019 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب لائسنس فیس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل فیس 2015 میں 50,000 روپئے تھی، جو 2017 میں 1 لاکھ روپئے اور پھر 2019 میں 2 لاکھ روپئے کر دی گئی تھی۔

محکمہ آبکاری موجودہ 2,620 دکانوں کی تعداد پر بھی نظرثانی کر رہا ہے، جو 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر مقرر کی گئی تھی۔ حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں حالیہ بلدی حدود میں توسیع اور آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دکانوں کی گنجائش پر غور کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں، دکانوں کے مقام پر پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز ہے، جس کے تحت دکانداروں کو الاٹ کردہ علاقے کے اندر نئی جگہ پر منتقل ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔