Read in English  
       
Employee Dues

حیدرآباد۔ ریاستی حکومت نے بدھ کے روز 1000 کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے حاضر اور ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی کا عمل تیز کر دیا۔ اس اقدام سے ہزاروں افراد کو فوری راحت ملی، جبکہ حکومت نے اپنے وعدے کی تکمیل کا بھی عندیہ دیا۔ مزید برآں، اس فیصلے کو مالی نظم و نسق میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا کی ہدایت پر احکامات جاری کیے۔ اس طرح اسمبلی میں دیا گیا وعدہ عملی شکل اختیار کر گیا۔ تاہم، حکومت پہلے ہی ملازم یونینوں سے ماہانہ 700 کروڑ جاری کرنے کا وعدہ کر چکی تھی، جسے مارچ 2026 تک پورا کیا گیا۔

بقایاجات کی ادائیگی میں توسیع | Employee Dues

بعد ازاں، بھٹی وکرمارکا نے ملازمین کی مالی ضروریات کا جائزہ لیا اور نتیجتاً ماہانہ رقم بڑھا کر 1000 کروڑ کر دی۔ اس فیصلے کا اطلاق موجودہ مالی سال سے کیا گیا، جس سے ادائیگی کے عمل میں تیزی آئی۔ لہٰذا، اپریل کی رقم کو ترجیحی بنیادوں پر جاری کیا گیا۔

اسی دوران، حکومت نے جنرل پروویڈنٹ فنڈ کے تمام زیر التوا بقایاجات بھی اکتوبر 2025 تک کلیئر کر دیے۔ اس اقدام سے خاص طور پر ریٹائرڈ ملازمین کو نمایاں ریلیف ملا، جو طویل عرصے سے اپنی رقم کے منتظر تھے۔

طبی سہولیات اور مالی تحفظ | Employee Dues

مزید یہ کہ، حکام کو ہدایت دی گئی کہ طبی بلوں کی ادائیگی میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ اسی کے ساتھ اسکالرشپ ادائیگیوں کا عمل بھی جاری رکھا گیا، جس سے مستحقین کو فائدہ پہنچا۔ بھٹی وکرمارکا نے واضح کیا کہ ملازمین کی صحت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین حکمرانی کے شراکت دار ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب، ملازم یونینوں نے اس بڑے مالی اجرا پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مثبت قدم قرار دیا۔