حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر مہیش کمار گوڑ نے 42 فیصد بی سی ریزرویشن کو ہندوستان کی تاریخ میں ایک ’’سماجی انقلاب‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور تلنگانہ حکومت نے اس فیصلے کو ممکن بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
پارٹی کارکنوں کو عوامی رابطے کی ہدایت | Mahesh Kumar Goud
جمعرات کو وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے ساتھ ایک پارٹی زوم میٹنگ کے دوران مہیش کمار گوڑ نے کارکنوں سے کہا کہ وہ اس پیغام کو گاؤں گاؤں تک پہنچائیں۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ مساوات اور سماجی انصاف کے لیے کانگریس حکومت کے پختہ عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر پارٹی کارکن کو عوام میں حکومت کی اس کامیابی کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ کانگریس کے سماجی وژن کو سمجھا جا سکے۔
مہیش کمار گوڑ نے بتایا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے اور پہلے مرحلے کے تحت مختلف اضلاع میں ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی نشستوں کے لیے نامزدگیوں کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ ان انتخابات کو سنجیدگی سے لیں، عوامی رابطے بڑھائیں اور ووٹنگ کے دن تک سرگرم رہیں۔ ان کے مطابق، یہ الیکشن کانگریس کے لیے عوامی اعتماد کی آزمائش ہوں گے۔
دستخطی مہم اور جمہوری بیداری کی اپیل | Mahesh Kumar Goud
ٹی پی سی سی صدر نے بتایا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) نے ووٹ چوری کے خلاف ملک گیر مہم شروع کی ہے۔ اس کے تحت تلنگانہ کانگریس 15 اکتوبر تک شہریوں سے دستخط جمع کرے گی۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ہر گاؤں سے کم از کم 100 دستخط حاصل کیے جائیں اور انہیں دہلی میں اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر بھیجا جائے۔
مہیش کمار گوڑ کے مطابق، یہ مہم ثابت کرے گی کہ کانگریس جمہوریت کے تحفظ اور صاف شفاف انتخابات کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے ڈی سی سی صدور، ارکانِ اسمبلی اور حلقہ انچارجز کو ہدایت دی کہ وہ اس دستخطی مہم پر قریبی نگرانی رکھیں۔ ان کے مطابق، عوامی شمولیت ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے اور بی سی کوٹہ جیسے اقدامات کانگریس کے سماجی انصاف کے وعدے کی عکاسی کرتے ہیں۔
