حیدرآباد: تلنگانہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے پسماندہ طبقات کے لیے 42 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کے روز سرور نگر کے این ٹی آر نگر میں سی پی ایم رہنماؤں نے احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ پیش کیا۔
مرکز اور گورنر پر تنقید | BC Reservations CPM
سی پی ایم کی مقامی شاخ کے سیکریٹری ایم۔ گوپی نائک اور سرور نگر سرکل کمیٹی کے رکن کٹہ سرینواس نے کہا کہ اگرچہ تلنگانہ اسمبلی نے بی سی ریزرویشن بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا، مگر بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت اسے نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رہنماؤں نے الزام لگایا کہ گورنر نے ریاستی فیصلے کا احترام کرنے کے بجائے مرکز کی ہدایت پر عمل کیا۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بی سی ریزرویشن سے متعلق ہائی کورٹ کی حکمِ امتناعی کو ختم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی سی بل کو آئین کی نویں فہرست میں شامل کر کے قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی چیلنج نہ اٹھ سکے۔
ریاست گیر بندکی حمایت | BC Reservations CPM
سی پی ایم نے اعلان کیا کہ پارٹی 18 اکتوبر کو طے شدہ ریاست گیر بندکی مکمل حمایت کرے گی۔ اس موقع پر پارٹی رہنما جگن یادو، منّا پرمیش، شنکر، شکیل اور دیگر کارکنان بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر ریزرویشن پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
سی پی ایم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی سی ریزرویشن نہ صرف سماجی انصاف بلکہ آئینی ذمہ داری بھی ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلد کارروائی نہ کی تو احتجاجی تحریک میں شدت لائی جائے گی۔
