Read in English  
       
KTR Congress fertiliser crisis

حیدرآباد: بھارتیہ راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر کے ٹی راما راؤ نے جمعرات کو کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تلنگانہ میں کھاد کی قلت پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کے مسائل پر سنجیدہ غور کے لیے اسمبلی کا اجلاس کم از کم 15 دن تک جاری رہنا چاہیے۔

اسی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے گن پارک میں شہداء کی یادگار کے قریب احتجاج کیا۔ انہوں نے خالی یوریا کی بوریاں دکھا کر کھاد کی قلت کی طرف توجہ دلائی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے ٹی آر نے واضح کیا کہ ان کی جماعت زرعی مسائل سے لے کر کالیشورم جیسے آبپاشی منصوبوں تک ہر موضوع پر ایوان میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ ایوان کی کارروائی کو اپنے مفادات کے مطابق چلانا چاہتی ہے اور عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث سے بچ رہی ہے۔

کے ٹی آر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کسانوں کو آج کھاد کے لیے آدھار کارڈ اور جوتوں کے ٹوکن کے ساتھ قطاروں میں کیوں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے؟ ان کے مطابق بی آر ایس کے 10 سالہ دور اقتدار میں کبھی ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ تہواروں اور شدید بارش کے دنوں میں بھی کسانوں کو کھاد کے حصول میں ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بارش، فصلوں کے نقصان اور خودکشیوں پر ایوان میں بحث ضروری: کے ٹی آر

سابق وزیر نے زور دیا کہ حالیہ بارشوں سے فصلوں کو ہونے والے نقصانات، کسانوں کی خودکشیوں اور مجموعی پریشانیوں پر اسمبلی میں مکمل اور سنجیدہ بحث کی جائے۔ ان کے مطابق اب تک 600 سے زائد کسان اپنی جانیں لے چکے ہیں جبکہ 75 لاکھ سے زیادہ کسان کرب میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کانگریس حکومت کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے چھ بڑے انتخابی وعدوں اور 420 وعدہ کردہ اعلانات پر عملدرآمد میں ناکامی کے حوالے سے بھی کھلی بحث کی اجازت دے۔ کے ٹی آر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ طلبہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی بقایاجات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو محض رسمی کارروائی کا مرکز نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کا ایک مضبوط پلیٹ فارم ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ بی آر ایس ہر سوال کا سامنا کرنے کو تیار ہے، چاہے وہ کالیشورم منصوبہ ہو، زرعی پالیسی ہو یا پی سی گھوش کمیشن، جسے انہوں نے طنزاً “پی سی سی گھوش کمیشن” قرار دیا، اور کہا کہ یہ مکمل طور پر کانگریس کی سازش ہے۔