Read in English  
       
Bioterror Plot

حیدرآباد ۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این آئی اے نے داعش سے جڑی مبینہ بایو دہشت سازش کے معاملے میں 3 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ سازش عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر زہر پھیلانے کے منصوبے سے متعلق تھی۔ این آئی اے نے یہ چارج شیٹ احمد آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کی۔

چارج شیٹ میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سید احمد محی الدین کے علاوہ اتر پردیش کے آزاد اور محمد سہیل کو نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون، بھارتیہ نیایا سنہتا اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے ہیں۔ مزید برآں این آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان بیرون ملک موجود داعش سے منسلک ہینڈلرز کی ہدایات پر کام کررہے تھے۔

حکام کے مطابق ملزمان کمزور اور حساس نوجوانوں کو نشانہ بنا کر شدت پسند نظریات پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔ اسی دوران الزام عائد کیا گیا کہ وہ ممنوعہ ہتھیاروں اور بایو دہشت طریقوں کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیوں کی تیاری میں مصروف تھے۔

زہریلے مادے کی تیاری کا الزام | Bioterror Plot

این آئی اے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان مبینہ طور پر رائسِن نامی زہریلے مادے کے استعمال کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ رائسِن ایک خطرناک حیاتیاتی زہر ہے جو ارنڈی کے بیجوں سے حاصل ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق اس مادے کی تیاری اور استعمال سے متعلق خفیہ سرگرمیوں کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب گجرات اے ٹی ایس نے نومبر 2025 میں ڈاکٹر سید احمد محی الدین کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق ایک ٹول پلازہ پر ان کی گاڑی سے غیر قانونی ہتھیار، مشتبہ مواد اور 4 لیٹر ارنڈی کا تیل برآمد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اے ٹی ایس کی تفتیش کے نتیجے میں دیگر 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

خفیہ لیبارٹری اور اسلحہ منتقلی | Bioterror Plot

این آئی اے کے مطابق آزاد اور محمد سہیل نے مبینہ طور پر راجستھان کے ہنومان گڑھ میں ایک خفیہ مقام سے رقم اور غیر قانونی ہتھیار حاصل کیے تھے۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ بعد میں یہ مواد گجرات منتقل کیا گیا۔ مزید یہ کہ جنوری 2026 میں کیس اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد این آئی اے نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سید احمد محی الدین نے حیدرآباد میں واقع اپنی رہائش گاہ کو خفیہ لیبارٹری میں تبدیل کردیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسی مقام پر ارنڈی کے بیجوں سے رائسِن تیار کیا جارہا تھا۔ علاوہ ازیں دیگر ملزمان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ بیرونی ہینڈلرز سے رابطے میں تھے اور مالی وسائل کی نگرانی کررہے تھے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان نے مختلف مقامات کی ریکی کی اور غیر قانونی اسلحہ و گولہ بارود جمع کیا۔

این آئی اے نے کہا کہ سازش سے جڑے دیگر افراد اور بیرونی ہینڈلرز کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔