حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تشدد پر کانگریس رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ کانگریس نے پہلی مرتبہ اس معاملے پر زبان کھولی ہے۔
رام چندر راؤ نے کہا کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ کانگریس نے بالآخر بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو درپیش مشکلات کو تسلیم کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، کیونکہ ماضی میں پارٹی کا مؤقف مختلف رہا ہے۔
کانگریس کے مؤقف پر سوال | Bangladesh Violence
اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے رام چندر راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس قیادت تاریخی طور پر ان طاقتوں کی حامی رہی ہے جو ہندو دھرم اور بھارتی تہذیبی اقدار کے خلاف سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی بارہا ایسے عناصر کی حمایت کرتی رہی ہے جو ہندو مفادات کے مخالف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف بیرون ملک ہندوؤں کے تحفظ پر بات کرنا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرینکا گاندھی کو بھارت میں غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازی کے خلاف بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
دہشت گردی پر سخت مؤقف کا مطالبہ | Bangladesh Violence
رام چندر راؤ نے مزید کہا کہ کانگریس قیادت کو پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں اور دیگر شدت پسند نیٹ ورکس کی بھی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کانگریس کو ایسی قوتوں کی حوصلہ افزائی بند کر کے دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک مؤقف اپنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
