Read in English  
       
Fake Doctor

حیدرآباد: شادنگر میں ایک خود ساختہ ڈاکٹر نے بانجھ پن کے علاج کے نام پر جوڑوں کو بیٹا ہونے کی ضمانت دے کر لاکھوں روپئے کا دھوکہ دیا ہے۔

اس شخص کی شناخت شیولنگم کے طور پر ہوئی ہے، جو چودھری گوڑہ میں سری لکشمی پرسنا کلینک کے نام سے جعلی کلینک چلا رہا تھا۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس کے مخصوص انجکشن سے بیٹے کی پیدائش یقینی ہے، اور علاج سے پہلے مخصوص لیبارٹریز میں ہی ٹیسٹ کروانے پر اصرار کرتا تھا۔

شیولنگم ہر جوڑے سے علاج کے لیے 34,000 روپئے لیتا تھا، جن میں سے 15,000 روپئے پیشگی رقم کے طور پر وصول کرتا تھا۔ شکایت کنندگان کے مطابق وہ جھوٹے وعدوں کے ساتھ علاج جاری رکھتا، چاہے حمل کے امکانات موجود نہ ہوں۔

کئی معاملات میں جب بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے الزام والدین پر لگا دیا کہ انہوں نے اُس کا دیا گیا غذا کا چارٹ یا ملاقات کے وقت پر عمل نہیں کیا۔

متاثرین کی جانب سے دوسری رائے لینے پر پتہ چلا کہ شیولنگم کے پاس صرف ایک BAMS ڈگری ہے، وہ بھی کرناٹک کی ایک غیر تسلیم شدہ یونیورسٹی سے، اور وہ IVF جیسے حساس علاج کا اہل ہی نہیں تھا۔

مقامی باشندوں اور متاثرہ جوڑوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شیولنگم گزشتہ 15 سالوں سے جعلی ڈگریوں اور فرضی تجربہ کے بل بوتے پر علاج کر رہا تھا۔ عوام نے اس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ حمل سے پہلے بچے کی جنس کا اندازہ لگانا یا اس میں تبدیلی ممکن نہیں، اور ایسے دعوے سراسر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتے ہیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے اسکیموں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ معالج کے جال میں نہ آئیں۔