حیدرآباد: سائبرآباد پولیس کی جانب سے 13 دسمبر سے 19 دسمبر 2025 تک چلائی گئی خصوصی ہفتہ وار مہم میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کو مرکزی توجہ دی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق اس مہم کے دوران نفاذ قانون کے ساتھ ساتھ بیداری پر بھی خاص زور دیا گیا۔
رات کے اوقات میں کی گئی کارروائیوں کے دوران اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ نے چھ جنسی کارکنوں اور 11 خواجہ سرا افراد کو حراست میں لیا۔ سائبرآباد پولیس نے دو مقدمات میں چھ متاثرین کو بازیاب کرایا اور دو ملزمان کو غیر اخلاقی تجارت کی روک تھام ایکٹ کے تحت گرفتار کیا۔
شی ٹیموں کی سرگرمیاں | Women Safety
اسی دوران سائبرآباد کی شی ٹیموں نے عوامی مقامات پر 137 ڈیکوائے آپریشن انجام دیے۔ ان کارروائیوں کے دوران 66 افراد کو نامناسب حرکات میں ملوث پایا گیا۔ پولیس نے 59 معاملات میں معمولی نوعیت کے مقدمات درج کیے جبکہ باقی افراد کو موقع پر ہی کونسلنگ فراہم کی گئی۔
شی ٹیموں کو مختلف ذرائع سے خواتین کی جانب سے 23 شکایات موصول ہوئیں، جن پر فوری کارروائی کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ شکایات عوامی اعتماد میں اضافے کی علامت ہیں۔
خاندانی تنازعات کا حل | Women Safety
فیملی کونسلنگ سینٹرز اور سی ڈی ای ڈبلیو مراکز کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان تنازعات حل کیے گئے۔ سائبرآباد پولیس کی کوششوں سے اس ہفتے کے دوران 22 خاندان دوبارہ متحد ہوئے، جسے حکام نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
بیداری پروگرام اور ہیلپ لائنز | Women Safety
احتیاطی اقدامات کے تحت اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ اور شی ٹیموں نے سائبرآباد کے مختلف علاقوں میں آگاہی پروگرام منعقد کیے، جن میں مجموعی طور پر 7,229 افراد نے شرکت کی۔ شرکا کو انسانی اسمگلنگ، بچوں کی اسمگلنگ، چھیڑ چھاڑ، آن لائن ہراسانی، کم عمری کی شادی، چائلڈ لیبر، اسٹاکنگ، بھیک مانگنے اور سائبر فراڈ سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
پولیس نے ہیلپ لائن نمبرز 181، 1098، ڈائل 100 اور سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 کے استعمال سے بھی آگاہ کیا۔
سائبرآباد کی ڈپٹی کمشنر پولیس کے سروجنا نے کہا کہ پولیس کی مسلسل کوششوں سے علاقے میں تحفظ کا احساس مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق سخت نفاذ اور مؤثر بیداری ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد ہیں۔
