حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اقلیتی فلاح و بہبود سے متعلق دو اہم اسکیموں کے لیے رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت اقلیتی خواتین کو ایک مرتبہ 50,000 روپئے کی مالی امداد جبکہ مسلم فقیروں، دودیکولا اور دیگر کمزور مسلم طبقات کو روزگار کے لیے موپیڈز فراہم کیے جائیں گے۔
تلنگانہ اسٹیٹ مائنارٹیز فنانس کارپوریشن کے مطابق بڑی تعداد میں موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کئی اہل افراد پہلے مرحلے میں درخواست دینے سے محروم رہ گئے تھے، اس لیے دوبارہ رجسٹریشن کا موقع دیا جا رہا ہے۔
اقلیتی خواتین کے لیے مالی سہارا | Minority Schemes
اندرما مائنارٹی مہیلا یوجنا کے تحت حکومت اقلیتی خواتین کو ایک مرتبہ 50,000 روپئے کی مالی مدد فراہم کرے گی۔ اس اسکیم کے تحت 5,000 خواتین کا احاطہ کیا جائے گا۔
اس میں بیوائیں، یتیم، بے سہارا خواتین، اکیلی خواتین اور طلاق یافتہ خواتین شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد کمزور خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانا ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنی زندگی سنوار سکیں۔
روزگار کے لیے موپیڈ اسکیم، پورٹل دوبارہ کھلا | Minority Schemes
مسلم فقیر، دودیکولا اور دیگر کمزور مسلم برادریوں کی بحالی کی اسکیم کے تحت اہل درخواست گزاروں کو موپیڈ فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نقل و حرکت میں آسانی ہوگی اور آمدنی کے مواقع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
زیادہ مانگ کے پیش نظر ٹی جی او بی ایم ایم ایس پورٹل دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جو 5 جنوری سے 10 جنوری 2026 تک کھلا رہے گا۔ حکام نے اہل افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت آن لائن درخواست جمع کرائیں تاکہ آخری وقت میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کارپوریشن کے مطابق اقلیتی خواتین اور مسلم فقیر، دودیکولا سمیت دیگر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدوار پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ وقت پر درخواست جمع کرانے سے جانچ کا عمل بھی آسان ہو جائے گا۔
