Read in English  
       
Farmers Protest Telangana

حیدرآباد ۔ دوباک کے رکن اسمبلی کوتھا پربھاکر ریڈی نے تلنگانہ میں پرجا پالنا تقاریب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو کسانوں کے مسائل پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت تقریبات کے انعقاد میں مصروف ہے جبکہ کسان دھان فروخت کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جشن منانا عوامی مسائل سے لاپرواہی کی علامت ہے۔

پس منظر کے طور پر، یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دوباک میں عوامی نمائندوں کے اجلاس کے دوران کوتھا پربھاکر ریڈی نے کسانوں کے مسائل اٹھائے۔ تاہم ان کے مطابق حکام نے اس وقت ان کا مائیک بند کر دیا جب وہ دھان کی خریداری اور کسانوں کی مشکلات پر بات کر رہے تھے۔ نتیجتاً انہوں نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان خریداری مراکز اور گوداموں کے باہر اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایسے وقت میں تقاریب کا انعقاد کسانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ اسی لیے انہوں نے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ دھان کی خریداری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

پرجا پالنا تقاریب پر تنقید | Farmers Protest Telangana

کوتھا پربھاکر ریڈی نے گزشتہ 2.5 سال کے دوران کانگریس حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو عملی نتائج نظر نہیں آ رہے۔ مزید برآں انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملّنا ساگر جیسے منصوبوں کے ذریعے آبپاشی کے نظام کو مضبوط کیا گیا تھا۔

تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے نہروں کی دیکھ بھال کو نظر انداز کیا جس سے کسانوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے کالیشورم منصوبے پر حکومت کی تنقید کو بھی نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ فی الحال نہروں تک پانی کہاں سے فراہم کیا جا رہا ہے۔

دیہی نظام اور اسکیموں پر سوالات | Farmers Protest Telangana

مزید برآں رکن اسمبلی نے ضلع انتظامیہ پر سرکاری محکموں کے ناقص انتظام کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق دیہی ترقی اور آبپاشی سمیت کئی شعبے کمزور ہو چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے 24 گھنٹے مفت بجلی، ریتھو بندھو، ریتھو بیمہ، کسان پلیٹ فارم اور گودام جیسی اسکیمیں نافذ کی تھیں۔

اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت پر کسانوں کا اعتماد کم ہو چکا ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ مچھلی اور بھیڑوں کی تقسیم کے پروگرام بند ہونے سے دیہی روایتی پیشے متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب انہوں نے نشاندہی کی کہ تالابوں میں گاد بھر جانے کے باعث دیہات میں پینے کے پانی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔

آخر میں کوتھا پربھاکر ریڈی نے گرام پنچایتوں کو فنڈز جاری نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھان کی خریداری کو تیز کرنے کے لیے خصوصی افسران مقرر کیے جائیں۔ مزید برآں انہوں نے کانگریس حکومت سے اپیل کی کہ وہ تقاریب کے بجائے اپنے انتخابی وعدے پورے کرے تاکہ عوام کو حقیقی ترقی مل سکے۔