حیدرآباد ۔ جگتیال میں کانگریس پارٹی کا بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سینئر رہنما اور سابق وزیر جیون ریڈی نے استعفے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد پارٹی قیادت کو براہ راست مداخلت کرنا پڑی تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے۔
پس منظر کے طور پر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ منگل کے روز جیون ریڈی کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے مذاکرات کیے۔ مزید برآں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری سچن ساونت اور ویملواڑہ کے رکن اسمبلی اور سرکاری وہپ آدی سرینواس بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔
اس سے قبل دیگر سینئر رہنماؤں کی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں، جس کے بعد یہ اقدام ایک آخری کوشش کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم بحران کی بنیادی وجہ جگتیال کے رکن اسمبلی سنجے کمار کو پارٹی میں شامل کرنے کی تجویز بنی جس پر جیون ریڈی نے شدید اعتراض کیا۔
اختلافات کی گہرائی | Congress Crisis
جیون ریڈی نے کھلے عام کہا کہ وہ پارٹی کے اندر اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اسی مہینے کی 25 تاریخ کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیں گے۔
اس سے قبل وزراء سریدھر بابو اور اڈلوری لکشمن کے علاوہ رکن اسمبلی میڈی پلی ستیم نے بھی ان سے بات چیت کی تھی۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا، لہٰذا پارٹی قیادت کو براہ راست مداخلت کرنا پڑی۔
اسی دوران جیون ریڈی کی رہائش گاہ کے باہر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کے حامیوں نے نعرے بازی کی اور جگتیال ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر نندیا کے داخلے کی مخالفت کی، جس کے باعث انہیں واپس جانا پڑا۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی | Congress Crisis
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب نندیا پر الزام لگا کہ وہ حالیہ دنوں میں سنجے کمار کے قریب ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً جیون ریڈی کے حامیوں نے ان کا داخلہ روک دیا اور صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
دوسری جانب مہیش کمار گوڑ کی آمد کے دوران کانگریس رہنماؤں نے جیون ریڈی کو پارٹی کا اسکارف پہنانے کی کوشش کی۔ تاہم انہوں نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی میں کافی توہین کا سامنا کر چکے ہیں اور اب مزید اس علامت کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
مزید برآں جیون ریڈی اور پارٹی قیادت کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ لیکن استعفے کی مقررہ مدت میں 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت باقی ہونے کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار رہی کہ آیا یہ بحران ختم ہوگا یا مزید گہرا ہو جائے گا۔
نتیجتاً یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کے فیصلے تک محدود نہیں رہا بلکہ پارٹی کے اندرونی اتحاد اور قیادت کی صلاحیت کا بھی امتحان بن گیا ہے۔
