Read in English  
       
Temple Heritage

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راو (کے ٹی آر) نے ورنگل کے قریب واقع ایک تاریخی کاکتیہ مندر کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کانگریس حکومت کو تلنگانہ کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کی مناسب سمجھ نہیں ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس واقعے کو ریاستی تاریخی ورثے کے لیے خطرناک قرار دیا۔

کے ٹی راما راو کے مطابق ورنگل ضلع کے خاناپور منڈل کے اشوک نگر کے قریب موجود 800 سال قدیم شیو مندر کو مبینہ طور پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مندر صدیوں قبل کاکتیہ حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور یہ تلنگانہ کی تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر تاریخی ورثے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

تاریخی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ | Temple Heritage

بی آر ایس قائد نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق انتظامیہ پہلے ہی ترقیاتی منصوبوں کے دوران کئی مکانات منہدم کر چکی ہے اور بڑی تعداد میں درخت بھی کاٹے جا چکے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تاریخی عمارتیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔

کے ٹی راما راو نے مطالبہ کیا کہ مندر کے قریب جاری مبینہ سرگرمیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ تاریخی شیو مندر کی جلد بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ثقافتی ورثہ محفوظ رہ سکے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

تلنگانہ کی ثقافتی شناخت پر زور | Temple Heritage

کے ٹی راما راو نے کہا کہ تلنگانہ کی تاریخی شناخت اور ثقافتی ورثے کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق کاکتیہ دور کی تاریخی عمارتیں ریاست کی تہذیبی تاریخ کی علامت ہیں اور ان کی حفاظت ناگزیر ہے۔ لہٰذا حکومت کو ترقیاتی سرگرمیوں کے دوران تاریخی مقامات کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

بی آر ایس قائد کے بیان کے بعد اس معاملے نے سیاسی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے بھی تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔