Logistics Vision
حیدرآباد ۔ وزیر صنعت و آئی ٹی ڈی سریدھر بابو نے کہا ہے کہ تلنگانہ ایک عالمی لاجسٹکس مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست ایک ایسا جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تشکیل دے رہی ہے جو لاجسٹکس شعبے میں پیدا ہونے والے نئے مواقع اور چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔ مزید برآں انہوں نے اس شعبے کو تلنگانہ رائزنگ-2047 کے اہداف کے حصول میں کلیدی حیثیت قرار دیا۔
انہوں نے یہ بات فیڈریشن آف تلنگانہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ایچ آئی سی سی میں منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس آن شپنگ اینڈ لاجسٹکس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، رابطہ نظام کو بہتر بنانے اور ایک مسابقتی لاجسٹکس ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ چنانچہ ریاست کی اقتصادی ترقی میں اس شعبے کا کردار مزید اہم ہونے جا رہا ہے۔
بنیادی ڈھانچے پر توجہ | Logistics Vision
ڈی سریدھر بابو نے تلنگانہ کی برآمدی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ایکسپورٹ پریپیئرڈنس انڈیکس میں آٹھویں مقام پر ہے۔ مزید برآں زمینی سرحد نہ رکھنے والی ریاستوں میں تلنگانہ نے دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں صنعتی ترقی کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیر نے کہا کہ اشیائے تجارت کی برآمدات کے معاملے میں تلنگانہ قومی سطح پر ساتویں مقام پر موجود ہے۔ تاہم حکومت کا مقصد ریاست کی جغرافیائی محدودیت کو ایک اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل کرنا ہے۔ لہٰذا بنیادی ڈھانچے پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ لاجسٹکس پالیسی 2.0 کے تحت میگا ملٹی موڈل لاجسٹکس پارکس، ڈرائی پورٹس، بانڈڈ ویئرہاؤسنگ سہولیات اور مربوط لاجسٹکس مراکز کو فروغ دیا جائے گا۔ دریں اثنا ان منصوبوں سے سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی اہمیت | Logistics Vision
ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے لاجسٹکس شعبے میں ہنرمند افرادی قوت ناگزیر ہے۔ اسی لیے حکومت ایک جامع لائحہ عمل تیار کر رہی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو لاجسٹکس سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔
ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز کارکردگی، پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں نمایاں بہتری لائیں گی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام لاجسٹکس شعبے کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیر نے سرمایہ کاروں کو ملٹی موڈل لاجسٹکس انفراسٹرکچر، ریل سے منسلک سہولیات، ایئر کارگو آپریشنز، کولڈ چین نیٹ ورکس اور گریڈ-اے ویئرہاؤسنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ دوسری جانب انہوں نے آٹومیشن، ڈیجیٹل لاجسٹکس پلیٹ فارمز اور گرین موبلٹی حل میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈی سریدھر بابو نے صنعتی شعبے کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ حکومت کاروبار دوست ماحول کی فراہمی جاری رکھے گی۔ چنانچہ سرمایہ کاری کے فروغ اور شعبہ جاتی ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تلنگانہ عالمی لاجسٹکس نقشے پر ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے۔
کانفرنس میں ایف ٹی سی سی آئی کے صدر آر روی کمار، سینئر نائب صدر کے کے مہیشوری، نائب صدر سرینواس گریملا اور شپنگ اینڈ لاجسٹکس کمیٹی کے چیئرمین کمل جین سمیت متعدد صنعت کاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔
