حیدرآباد: سالانہ جرائم رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں مجموعی جرائم میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات پولیس کمشنر وی سی سجنار نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے میڈیا کو بتائی۔ ان کے مطابق اس سال 30,690 ایف آئی آرز درج ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 35,944 تھی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسی عرصے کے دوران خواتین کے خلاف جرائم اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قتل کی کوشش کے 176 اور اغوا کے 166 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ دھوکہ دہی کے 4,536 کیسز سامنے آئے۔
خواتین کے خلاف جرائم میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا، جن میں 405 عصمت دری اور 119 اغوا کے مقدمات شامل ہیں۔ پولیس کمشنر نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سائبر کرائم، منشیات اور ٹریفک پر توجہ | Crime Report
سجنار نے کہا کہ بہتر پٹرولنگ اور جدید نگرانی کے نظام کے باعث شہر میں جرائم میں کمی ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق دیگر ریاستوں کے جرائم پیشہ گروہ اب حیدرآباد آنے سے گریز کرتے ہیں۔ سائبر کرائم پر قابو پانے کے لیے بیداری مہمات بھی مؤثر ثابت ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال 566 سائبر مجرم گرفتار کیے گئے اور فراڈ سے جڑے 120 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔ ہر منگل اور ہفتہ کو منعقد ہونے والے بیداری پروگراموں کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ پولیس کمشنر نے شہریوں کو لالچ سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آسان کمائی کی پیشکش اکثر دھوکہ دہی کا باعث بنتی ہیں۔
منشیات کے خلاف مہم اور سزا کی شرح | Crime Report
منشیات کے خلاف کارروائی کو ترجیح دیتے ہوئے پولیس نے اس سال 368 مقدمات درج کیے اور 6.5 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی۔ سجنار نے اعلان کیا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ڈی سی پی سطح کا خصوصی وِنگ قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال 4,463 ملزمان کو سزا دلائی گئی۔ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں سڑک حادثات میں کمی آئی۔ پولیس نے 49,732 نشے میں ڈرائیونگ اور 5,518 خطرناک ڈرائیونگ کے مقدمات درج کیے۔
نئے سال کے موقع پر 126 خصوصی ٹیمیں شہر بھر میں تعینات کی جائیں گی۔ سجنار نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نشے میں گاڑی نہ چلائیں اور پولیس سے تعاون کریں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سائبر فراڈ کے ذریعے اس سال 251.14 کروڑ روپے لوٹے گئے، جن میں سے 30 کروڑ روپے برآمد کر لیے گئے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پولیس ملک کی بہترین فورسز میں شمار ہوتی ہے اور گھریلو تنازعات میں ضبط و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
Hyderabad City Police Annual Press Meet – 2025 (Live)https://t.co/XiqzIsmrAB
— Hyderabad City Police (@hydcitypolice) December 27, 2025
