حیدرآباد ۔ سابق وزیر اور سدی پیٹ کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کہا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی تازہ رپورٹ ریاستی کسان پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے لیے واضح جواب ہے۔ Harish Rao Farmer Suicides بیان کے مطابق 2014 میں کسان خودکشیوں میں تلنگانہ کا دوسرا مقام تھا، لیکن 2023 میں یہ گھٹ کر 14ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔
ہریش راؤ کا کہنا ہے کہ دس برسوں میں کسان خودکشیوں میں 95.84 فیصد کمی آئی، جو کے سی آر کی کسان دوست پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا مقصد کسانوں کو بادشاہ بنانا تھا، جبکہ کانگریس ہمیشہ انہیں محض ووٹ بینک سمجھتی رہی۔
کسانوں کے لیے اسکیمیں اور نتائج
ہریش راؤ نے بتایا کہ 2014 میں تلنگانہ میں کسانوں کی 1,347 خودکشیاں ریکارڈ ہوئیں، لیکن 2023 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 56 رہ گئی۔ پورے ملک میں اس سال 10,786 کسان خودکشیوں میں تلنگانہ کا حصہ صرف 0.51 فیصد رہا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار مرکزی حکومت کی سرکاری رپورٹ میں درج ہیں۔
انہوں نے قرض معافی، رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ، 24 گھنٹے مفت بجلی، فصلوں کی خریداری اور آبپاشی کے بڑے منصوبے جیسے کالیشورم اور مشن کاکتیہ کو اس بہتری کی اہم وجوہات قرار دیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ان اقدامات سے بنجر زمینیں زرخیز کھیتوں میں تبدیل ہوئیں اور تلنگانہ قحط زدہ ریاست سے اناج کی پیداوار کا مرکز بن گیا۔
Harish Rao Farmer Suicides بیان والے پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ تلنگانہ کبھی کسان خودکشیوں کی علامت تھا لیکن آج کے سی آر کی قیادت میں یہ ملک کے اناپورنا کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
