Read in English  
       
Parliamentary Balance

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر لوک سبھا نشستوں میں اضافے کے معاملے پر قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حساس معاملے پر تمام ریاستوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ اس موضوع پر ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے تاکہ مختلف نقطہ نظر سامنے آ سکیں۔ مزید برآں، انہوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن کو فوری نافذ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اسے نشستوں میں اضافے سے نہ جوڑا جائے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ خواتین ریزرویشن، حد بندی اور نشستوں میں اضافہ تین الگ مسائل ہیں۔ تاہم، ان کو ایک ساتھ جوڑنے سے عوام میں الجھن پیدا ہو رہی ہے، جس سے پالیسی سازی متاثر ہو سکتی ہے۔

وفاقی توازن پر خدشات | Parliamentary Balance

وزیر اعلیٰ نے اس تجویز کی مخالفت کی جس کے تحت لوک سبھا نشستوں کو بڑھا کر 850 تک لے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر جنوبی ریاستوں کو اس حوالے سے شدید تحفظات ہیں، کیونکہ یہ ماڈل علاقائی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ طریقہ کار معاشی شراکت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ نتیجتاً، اس سے جنوبی ریاستوں کی سیاسی آواز کمزور ہو سکتی ہے، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

Parliamentary Balance

متبادل تجاویز اور مطالبات | Parliamentary Balance

ریونت ریڈی نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے، صحت اور ترقی کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کے باوجود مجوزہ ماڈل ان ریاستوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے مالی وسائل کی تقسیم میں عدم توازن کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ کچھ ریاستیں اپنی شراکت کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل کر رہی ہیں، جبکہ تلنگانہ کو کم حصہ مل رہا ہے۔ اسی دوران انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر اتفاق رائے کے اس تجویز کو نافذ کرنے سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

متبادل کے طور پر انہوں نے ایک ہائبرڈ ماڈل پیش کیا، جس کے تحت آدھی نشستیں پرو ریٹا کے مطابق دی جائیں جبکہ باقی نشستوں کا انحصار معاشی کارکردگی اور دیگر عوامل پر ہو۔ آخر میں انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ ایک شفاف اور جامع مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ تمام ریاستوں کے ساتھ انصاف ممکن بنایا جا سکے۔

یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ لوک سبھا نشستوں کی تقسیم صرف عددی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی اور آئینی مسئلہ ہے۔ لہٰذا اس پر متفقہ فیصلہ ہی مستقبل میں استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔