Read in English  
       
GHMC Reorganisation

حیدرآباد: حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ارکانِ اسمبلی اور کارپوریٹرس نے جی ایچ ایم سی میئر گدوال وجئے لکشمی اور کمشنر آر وی کرنن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران بلدیاتی حلقوں کی ازسرِ نو حد بندی پر اعتراضات اٹھائے گئے اور باضابطہ نمائندگی پیش کی گئی۔ نمائندوں نے کہا کہ مجوزہ تبدیلیاں مقامی سطح پر مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

کانگریس کے وفد میں ایم ایل اے دانم ناگیندر، آریکے پوڈی گاندھی، پرکاش، ایم ایل سی بالموری وینکٹا کے علاوہ کئی کارپوریٹرس اور ایکس آفیشیو اراکین شامل تھے۔ ان رہنماؤں نے میئر اور کمشنر سے ملاقات کے دوران نئی حدود کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

نمائندوں نے ملاقات میں حد بندی سے متعلق خدشات اور شکایات سامنے رکھیں۔ اس موقع پر میئر وجئے لکشمی نے بتایا کہ منگل کو منعقد ہونے والے خصوصی جنرل باڈی اجلاس میں تمام اراکین کو اپنی تجاویز، اعتراضات اور آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

جنرل باڈی اجلاس میں بحث | GHMC Reorganisation

میئر نے یقین دہانی کرائی کہ اجلاس کے دوران موصول ہونے والی تمام تجاویز اور اعتراضات کو مرتب کر کے ریاستی حکومت کو ارسال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق فیصلہ سازی میں منتخب نمائندوں کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔

ملاقات کے بعد کانگریس کے ایم ایل ایز نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تفصیلی حد بندی نقشوں کے ساتھ تحریری نمائندگی جمع کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ازسرِ نو تنظیم کے لیے اختیار کیے گئے معیارات پر بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

ریاستی فیصلے پر تحفظات | GHMC Reorganisation

واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں جی ایچ ایم سی حلقوں کی تعداد بڑھا کر 300 کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ نئی حدود سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن چند روز قبل جاری کیا گیا، جس کے بعد مرکزی جی ایچ ایم سی علاقے میں حلقوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ان تبدیلیوں کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے نئی حد بندی اور تشکیل شدہ ڈویژنز پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں کانگریس قیادت نے جی ایچ ایم سی حکام سے براہِ راست وضاحت طلب کی اور خدشات سے آگاہ کیا۔