حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے قانون ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر داسوجو شراون نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ترقی کے نام پر ’’لائسنس یافتہ زمین قبضہ‘‘ کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی اراضی پر سرکاری قبضے کی کوشش دراصل تعلیم اور آنے والی نسلوں پر براہِ راست حملہ ہے۔
تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر داسوجو شراون نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود محکمہ تعلیم کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں، اس کے باوجود سرکاری یونیورسٹیوں کی زمین فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ناقابل قبول ہے۔
ہزاروں ایکڑ کا معاملہ | Land Grab
ڈاکٹر داسوجو شراون نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت ایک رئیل اسٹیٹ مافیا کی طرح کام کر رہی ہے اور متعدد اداروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے پچاس ایکڑ زمین لینے کی تجویز شرمناک ہے اور اس نوٹس کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ لائسنس کے نام پر ہزاروں ایکڑ زمین ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ تجویز کابینہ کے سامنے رکھی گئی تھی یا یکطرفہ فیصلہ کیا گیا۔
تعلیم پر حملہ | Land Grab
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ کسی بھی وزیراعلیٰ کو اپنی کرسی بچانے کے لیے یونیورسٹی زمین فروخت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے بقول جو رہنما تعلیمی اداروں کی زمین بیچنے کا سوچے، وہ ریاست کے اعلیٰ منصب کے لائق نہیں۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ریاست کو ذاتی جاگیر کی طرح نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کے مطابق علم کی دیوی سرسوتی سے کھیلنے والوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔
ڈاکٹر داسوجو شراون نے اردو زبان اور طلبہ سے متعلق معاملات پر کانگریس کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مسلم برادری سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس اقدام کی مخالفت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے پارٹی نے کانچہ گچی باولی تنازع میں طلبہ کا ساتھ دیا تھا، ویسے ہی اب اردو یونیورسٹی کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کی ترقی کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے مختص کیے جائیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں چھبیس شعبے ہیں اور پہلے ہی زمین کی کمی کا سامنا ہے۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ کے عوام تعلیمی اداروں پر کسی بھی حملے کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے بقول تعلیم اور مستقبل کو نظرانداز کر کے زمین ہتھیانا عوام مخالف اور خطرناک سوچ کی عکاسی ہے۔
