حیدرآباد: جگتیال ضلع میں سیاسی کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب کورٹلہ کے ایم ایل اے کلواکنٹلا سنجے کمار نے جگتیال کے ایم ایل اے ڈاکٹر سنجے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں استعفیٰ دینے اور عوام کے سامنے جانے کا کھلا چیلنج دیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کورٹلہ ایم ایل اے نے ڈاکٹر سنجے کو “ناکام شخص” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ انہیں ٹھیکوں اور بلوں کے علاوہ کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ کورٹلہ کے مریض علاج کے لیے جگتیال پر انحصار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق جگتیال ضلع ہیڈکوارٹر ہونے کے باعث کورٹلہ کے لوگ فطری طور پر وہاں کے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سنجے کے بیانات سے جگتیال کی خودداری کو ٹھیس پہنچی ہے۔
استعفیٰ کا کھلا چیلنج | Jagtial Politics
کلواکنٹلا سنجے کمار نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈاکٹر سنجے خود علاج کے لیے حیدرآباد نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ نے جگتیال کو ضلع ہیڈکوارٹر کا درجہ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کے سی آر سے غداری دراصل عوام سے غداری کے مترادف ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ڈاکٹر سنجے اس وقت کس سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں، وہ اس بات کا جواب دیں۔
کورٹلہ ایم ایل اے نے براہِ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ڈاکٹر سنجے میں ہمت ہے تو وہ استعفیٰ دیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر سنجے کے مستعفی ہونے کی صورت میں وہ خود بھی کورٹلہ سے استعفیٰ دے کر جگتیال سے انتخاب لڑیں گے۔
میڈیکل کالج پر سوالات | Jagtial Politics
ایک اور معاملہ اٹھاتے ہوئے کلواکنٹلا سنجے کمار نے جگتیال میں میڈیکل کالج کی تعمیر کی سست رفتاری پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے کام انتہائی سست رفتار سے جاری ہے اور اس کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔
ان بیانات کے بعد ضلع میں سیاسی محاذ آرائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ دونوں جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
