Read in English  
       
Legal Fairness

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون کمار نے بالکا سمن کی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر بعض بیانات کو جرم تصور کیا جا رہا ہے تو پھر وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بھی وہی قانونی پیمانے لاگو کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا اطلاق تمام افراد پر یکساں ہونا چاہیے۔

داسوجو سراون کمار نے یہ بات چنچل گوڑہ جیل میں سابق رکن اسمبلی بالکا سمن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر بی آر ایس کے دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنگارینی کولیریز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنے پر بالکا سمن کے خلاف من گھڑت مقدمات درج کیے گئے اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بالکا سمن نے سنگارینی میں مزدوروں کو درپیش مسائل، مبینہ ناانصافیوں اور بدعنوانی کے معاملات پر آواز اٹھائی تھی۔ تاہم، ان کے مطابق ان مسائل کو اجاگر کرنے والے رہنما کے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

گرفتاری پر سیاسی ردعمل | Legal Fairness

داسوجو سراون کمار نے سوال کیا کہ جس قانون کے تحت بالکا سمن کے خلاف کارروائی کی گئی، وہی قانون وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر کیوں لاگو نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ماضی میں دیے گئے متعدد بیانات پر حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سنگارینی کولیریز میں ہزاروں کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ مزدور مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور بالکا سمن نے صرف ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ آیا ریاست میں قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو رہا ہے یا نہیں۔

داسوجو سراون کمار نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بالکا سمن کے بیانات غلط تھے تو پھر وزیر اعلیٰ کے مبینہ بیانات کو غلط کیوں نہیں سمجھا جا رہا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی جا رہی۔

قانونی معیار پر سوالات | Legal Fairness

بی آر ایس رہنما نے الزام لگایا کہ کانگریس کے کئی رہنما عوامی اجتماعات میں نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت سیاسی بیانات کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تو ایسے تمام رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جائیں۔

داسوجو سراون کمار نے ریاستی حکومت پر سیاسی مقدمات کے حوالے سے امتیازی رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ برسر اقتدار جماعت کے رہنماؤں کے خلاف اسی نوعیت کی جانچ نہیں کی جاتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ میں آئینی اصولوں پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو رہا۔ ان کے بقول، ریاستی نظام حکمرانی میں قانون کے مساوی نفاذ کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

دریں اثنا، بالکا سمن کی گرفتاری کے معاملے نے کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں اور حکمرانی، اظہار رائے کی آزادی اور قانونی کارروائیوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کر رہی ہیں۔