Read in English  
       
Gold Theft Case

حیدرآباد ۔ افضل گنج پولیس نے سونے کے زیورات کی چوری کے ایک اہم کیس کو حل کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا اور 17 تولے سونا برآمد کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نجی بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو نشانہ بنایا۔ مزید برآں، اس کارروائی سے ایک منظم چوری کے طریقہ کار کا انکشاف ہوا۔ اس طرح پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کیس کو سلجھا لیا۔

پولیس نے انارڈی وینکٹا سیوا ریڈی عمر 35 سال کو گرفتار کیا جو آندھرا پردیش کے ضلع کرنول کے بدھوارپیٹ کا رہائشی ہے۔ تاہم، وہ ایک نجی ملازمت کرتا تھا اور رات کے سفر کے دوران مسافروں کے سامان کی تلاشی لے کر قیمتی اشیاء چوری کرتا تھا۔ مزید یہ کہ اس کے خلاف متعدد مقدمات پہلے سے درج ہیں۔ نتیجتاً، اس کی مجرمانہ سرگرمیاں مسلسل جاری تھیں۔

واقعہ کی تفصیل اور ابتدائی شکایت | Gold Theft Case

یہ مقدمہ کرائم نمبر 153/2026 کے تحت درج کیا گیا تھا جس کی شکایت ڈاکٹر ڈی ایس کیرتھنا نے کی تھی جو ہائی ٹیک سٹی کے سندھو اسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 12 اپریل کو رات 10:30 بجے اننت پور سے مینا ٹریولز کی بس میں سوار ہوئیں۔ تاہم، بس صبح 6:00 بجے 13 اپریل کو حیدرآباد کے ایم جی بی ایس پہنچی۔ اس دوران وہ سو گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ منزل پر پہنچنے کے بعد جب وہ بیدار ہوئیں تو ان کے سونے کے زیورات غائب تھے۔ مزید برآں، ان میں لمبا ہار، منگل سوتر، چین، چوڑیاں اور انگوٹھیاں شامل تھیں جن کا وزن تقریباً 20 تولے تھا۔ تاہم، تلاش کے باوجود زیورات نہیں مل سکے۔ نتیجتاً، انہوں نے چوری کا شبہ ظاہر کیا۔

تفتیش اور سی سی ٹی وی سے سراغ | Gold Theft Case

پولیس نے شکایت درج ہوتے ہی فوری تحقیقات شروع کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ مزید برآں، فیلڈ انکوائری کے ذریعے ملزم کا سراغ لگایا گیا۔ اس طرح پولیس نے کامیابی کے ساتھ ملزم کو گرفتار کر لیا اور 17 تولے سونے کے زیورات برآمد کیے۔

دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ رات کے وقت بسوں میں سوار ہو کر سوئے ہوئے مسافروں کے بیگ کھنگالتا تھا۔ تاہم، واردات کے بعد وہ جڑچرلہ میں اتر جاتا اور زیورات کو فروخت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ مزید یہ کہ وہ شراب نوشی اور سٹے بازی کا عادی تھا جس کے باعث اسے پیسے کی ضرورت رہتی تھی۔ اس طرح اس نے جرم کا راستہ اختیار کیا۔

مجرمانہ ریکارڈ اور پولیس کی کارروائی | Gold Theft Case

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف آندھرا پردیش کے مختلف اضلاع جیسے اننت پور، کرنول، وجے واڑہ اور کڑپہ میں کئی مقدمات درج ہیں۔ تاہم، ان میں چوری اور گھروں میں نقب زنی کے کیس شامل ہیں۔ مزید برآں، اس کے خلاف گیمنگ ایکٹ کے تحت بھی مقدمات موجود ہیں۔

اس کارروائی کی نگرانی ڈی سی پی جی چندرا موہن، ایڈیشنل ڈی سی پی کرشنا گوڑ اور اے سی پی ایس سدرشن نے کی۔ مزید یہ کہ افضل گنج پولیس ٹیم، بشمول ایس ایچ او این موہن راؤ اور ڈیٹیکٹو انسپکٹر بی روی کرن، کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ آخر میں حکام نے کہا کہ ٹیم کو اس کامیابی پر انعام دیا جائے گا۔ نتیجتاً، پولیس کی مستعدی ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔