Read in English  
       
SIT Inquiry

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار کے فرزند بنڈی بھاگیرتھ نے اپنے خلاف درج پوکسو معاملہ میں تحقیقات کر رہی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) سے مزید وقت طلب کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بنڈی بھاگیرتھ نے پیٹ بشیرآباد پولیس کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا کہ وہ جمعہ کے دن ایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس سے قبل ایس آئی ٹی نے 12 مئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں بدھ کی دوپہر 2 بجے تفتیش کیلئے حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔

تاہم مقررہ وقت پر وہ تحقیقاتی حکام کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بھاگیرتھ نے مقررہ وقت ختم ہونے کے تقریباً 3 گھنٹے بعد ای میل روانہ کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔

تفتیش میں نئی پیش رفت | SIT Inquiry

ای میل میں بنڈی بھاگیرتھ نے یہ بھی کہا کہ وہ کیس سے متعلق “مکمل شواہد” کے ساتھ ایس آئی ٹی کے سامنے حاضر ہوں گے۔ دوسری جانب تحقیقاتی ادارے اس معاملہ میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ الزامات کی مکمل جانچ کی جاسکے۔

یہ معاملہ اس وقت سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا جب بھاگیرتھ کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز ایکٹ یعنی پوکسو قانون کے تحت الزامات سامنے آئے۔ مزید برآں اس کیس نے ریاستی سیاست میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ معاملہ ایک مرکزی وزیر کے خاندان سے جڑا ہوا ہے۔

پوکسو دفعات میں سخت اضافہ | SIT Inquiry

پولیس نے 8 مئی کو قطب اللہ پور کے سچترہ علاقہ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ لڑکی کے اہل خانہ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا۔ شکایت میں جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کئے گئے تھے، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

یہ تحقیقات کُوکٹ پلی زون کے ڈی سی پی رتھیر اج کی نگرانی میں قائم ایس آئی ٹی انجام دے رہی ہے۔ ابتدا میں پولیس نے بھاگیرتھ کے خلاف پوکسو ایکٹ کی دفعات 11 اور 12 کے ساتھ بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعات 74 اور 75 کے تحت مقدمات درج کئے تھے۔

بعد ازاں متاثرہ لڑکی کے بیان کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ایس آئی ٹی نے پوکسو ایکٹ کی دفعہ 5(i) بھی شامل کردی۔ یہ دفعہ سنگین نوعیت کے جنسی حملے اور منصوبہ بند جنسی جرائم سے متعلق سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث کیس کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی دوران سیاسی حلقے اس معاملہ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ تحقیقات اور شواہد اس کیس کی سمت متعین کریں گے۔