حیدرآباد: ممبئی کرائم برانچ پولیس نے خفیہ آپریشن کے دوران حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر سرگرم ایک منشیات ریکٹ Hyderabad Drug Racket کو بے نقاب کیا ہے۔ اس کارروائی میں ایک کانسٹیبل کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کے روپ میں چرلاپلی کی ایک فارما کمپنی واگدیوی لیبز میں بھیجا گیا، جہاں اندر ہی اندر نشہ آور اشیاء کی تیاری جاری تھی۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل کے اندر داخل ہونے کے بعد تصدیق ہوئی کہ لیبارٹری کے اندر بڑے پیمانے پر منشیات تیار ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد چھاپہ مار کارروائی میں اہم ملزم سرینواس، وجے اویلیٹی اور تاناجی پٹوار کو گرفتار کیا گیا۔ اس نیٹ ورک سے جڑی ایک بنگلہ دیشی خاتون فاطمہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کے ڈی وی آئی-4 یونٹ کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس دتاترے شندے اور انسپکٹر پرمود کی نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔ اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اویلیٹی گینگ اور میفیڈرین کی فراہمی
Hyderabad Drug Racket کیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اویلیٹی گینگ کیمیکل ڈرمز پر جعلی لیبل لگا کر انہیں حیدرآباد منتقل کرتا تھا، جہاں میفیڈرین تیار کی جاتی تھی۔ یہ منشیات شہر میں آئی ٹی ملازمین کو فروخت کی جاتی اور مزید ممبئی، گوا اور بنگلورو اسمگل کی جاتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ کیمیکل اور خام مال کو دوبارہ مہاراشٹر منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل تلنگانہ کے انسداد منشیات حکام نے 107 کلو میفیڈرین ضبط کی تھی اور اویلیٹی نیٹ ورک پہلے ہی ان کے نشانے پر تھا۔
دیگر صنعتی علاقوں کی تفتیش
تحقیقات اب چرلاپلی کے ساتھ ساتھ ناچارم اور مالاپور کے صنعتی مراکز تک پھیلائی گئی ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کن فیکٹریوں میں غیرقانونی طور پر منشیات تیار کی جا رہی ہیں۔ حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں بظاہر غیر فعال ہیں لیکن ان کے ذریعے مشکوک سرگرمیاں جاری ہیں۔
نتیجہ
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور اس پورے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مختلف ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کارروائی جاری ہے۔
