حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت کو قانون کے بجائے کمیشن اور سیاسی دباؤ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے قانونی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے داسوجو شراون نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت من مانی فیصلوں اور بدعنوانی کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے فلم ٹکٹ قیمتوں کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنیماٹوگرافی ایکٹ 1955 کے تحت اجازت دینے کا اختیار ضلع کلکٹر کو حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود محکمہ داخلہ کے ذریعے حکومتی احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
فلم ٹکٹ تنازعہ اور عدالتی مداخلت | Legal Bypass
داسوجو شراون نے کہا کہ فلم ٹکٹ قیمتوں کے معاملے میں حکومت نے امتیازی رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے اداکار پربھاس کی فلم ’راجا صاحب‘ کے معاملے میں ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی روک کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مختلف فلمی شخصیات کے لیے الگ الگ اصول کیوں اپنائے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ شفافیت پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر کے دباؤ میں فیصلے کیے جا رہے ہیں، جو جمہوری نظام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
وعدوں سے انحراف اور عوامی ناراضی | Legal Bypass
بی آر ایس رہنما نے سینئر قائد ٹی ہریش راؤ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں کانگریس رہنماؤں کی جانب سے نازیبا زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی پر بھی تنقید کی کہ پہلے لاعلمی ظاہر کی گئی اور بعد میں مؤقف بدل لیا گیا۔
داسوجو شراون نے یاد دلایا کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں فلم ٹکٹ قیمتیں نہ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیٹرس میں عوام سے زائد رقم وصول کی جا رہی ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب سنیما بھی غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے، اور خبردار کیا کہ اگر یہ طرزِ حکمرانی جاری رہی تو عوام جلد ہی اس کا جواب دیں گے۔
