Read in English  
       
Hamas Hostage Release Talks

حیدرآباد ۔ حماس کی جانب سے بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ( Hamas Hostage Release Talks )نے اسرائیل میں ان خاندانوں کو نئی امید دی ہے جو طویل عرصے سے اس خبر کے منتظر تھے۔ تاہم یہ آمادگی بعض شرائط اور مذاکرات کی تکمیل سے مشروط ہے۔

امریکی امن منصوبے پر اپنے ردِ عمل میں حماس نے کہا ہے کہ وہ ’’تمام اسرائیلی قیدیوں، زندہ اور مردہ، دونوں کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجویز میں دیے گئے تبادلے کے فارمولے کے مطابق رہا کرنے پر متفق ہے، بشرطیکہ زمینی حالات اس تبادلے کے لیے سازگار ہوں‘‘۔

ٹرمپ منصوبے کی تفصیلات اور حماس کا مؤقف

امریکی صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں پیش کردہ فارمولے کے تحت جنگ بندی کا فوری نفاذ اور 72 گھنٹوں کے اندر تمام اسرائیلی یرغمالیوں، بشمول اُن کے جن کے جاں بحق ہونے کا اندیشہ ہے، کی رہائی کا ذکر ہے۔ بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے۔

ذرائع کے مطابق غزہ میں اب بھی تقریباً 48 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حماس نے امریکی منصوبے کے ایک اور اہم حصے، یعنی غزہ کی حکمرانی فلسطینی ماہرینِ تکنیک کے سپرد کرنے کی تجویز کو بھی قبول کیا ہے، جو ایک نمایاں پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔

تاہم 20 نکاتی منصوبے کے کئی پہلو اب تک غیر واضح ہیں، خاص طور پر وہ نکتہ جس میں حماس سے اپنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ردِ عمل اور امریکی دباؤ

اسرائیلی حکومت اب حماس کے بیان کے متن کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس کے حقیقی ارادوں کا اندازہ لگایا جا سکے — آیا یہ اقدام نیک نیتی پر مبنی ہے یا مذاکرات کو طول دینے کی حکمت عملی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کو اتوار کی شام تک حتمی رضامندی دینے یا ’’نتائج بھگتنے‘‘ کی آخری وارننگ دی تھی۔ اسی دوران، ٹرمپ نے اسرائیل پر غزہ میں بمباری روکنے کا مطالبہ کیا تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے کہا: ’’حماس کے حالیہ بیان کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ وہ پائیدار امن کے لیے تیار ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’اسرائیل کو فوراً بمباری روکنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو جلد اور محفوظ طریقے سے نکال سکیں۔ فی الحال حالات بہت خطرناک ہیں۔‘‘

مستقبل کے مذاکرات اور غیر یقینی صورتحال

ٹرمپ کے بیان کے آخری حصے میں یہ عندیہ دیا گیا کہ حماس مستقبل میں غزہ کے انتظامی مذاکرات میں شامل رہے گی، جسے اسرائیلی حلقے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

بعد میں ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ نے اسے ’’ایک بڑا دن‘‘ قرار دیا اور اُن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے منصوبہ تیار کرنے میں تعاون کیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ عمل ابھی تکمیل سے دور ہے۔

Hamas Hostage Release Talks کے بعد ٹرمپ نے کہا، ’’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ہمیں تفصیلات طے کر کے معاہدے کو ٹھوس بنیادوں پر لانا ہوگا۔‘‘