Read in English  
       
Telangana Party

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا مبینہ طور پر ایک نئی تلنگانہ جماعت کے قیام کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران انہوں نے معروف انتخابی حکمتِ عملی ساز پرشانت کشور کے ساتھ متعدد مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں، جنہیں آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان حیدرآباد میں کم از کم دو تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں عوامی سطح تک رسائی اور عوامی رائے پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان نشستوں میں تلنگانہ شناخت پر مبنی ایک منفرد سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل بھی زیرِ بحث رہی۔

پالیسی کمیٹیوں کے ذریعے بنیاد مضبوط | Telangana Party

کے کویتا پہلے ہی تقریباً 50 کمیٹیاں قائم کر چکی ہیں، جو سماجی و معاشی مسائل کا جائزہ لے کر ایک جامع پالیسی خاکہ تیار کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ’’جنم باٹا‘‘ مہم کی قیادت بھی کر رہی ہیں، جس کے تحت وہ اضلاع کا دورہ کر کے موجودہ ریاستی حکومت کی کارکردگی پر عوامی خدشات اجاگر کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ جماعت کو کانگریس اور بی جے پی دونوں کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد عوامی مسائل اور زمینی حقائق پر ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرشانت کشور اس منصوبے میں کلیدی مشاورتی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بدلتے سیاسی اشارے | Telangana Party

پرشانت کشور ماضی میں مختلف علاقائی قائدین کے ساتھ حکمتِ عملی سازی کا تجربہ رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے بیانات پر تنقید بھی کی تھی۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی زیرِ بحث ہے کہ ان کی ٹیم دیگر ریاستوں میں سرگرم رہتے ہوئے اب تلنگانہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

کے کویتا، جو سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی صاحبزادی ہیں، اس سے قبل نظام آباد سے رکنِ پارلیمان اور بعد ازاں قانون ساز کونسل کی رکن رہ چکی ہیں۔ ان کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کو تلنگانہ کی بدلتی سیاست میں ایک ممکنہ گیم چینجر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔