حیدرآباد: ریاست میں جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کے دوران بدھ کی صبح ایک بڑی گرفتاری عمل میں آئی، جس نے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ جی ایس ٹی انٹیلی جنس حکام نے تقریباً 28 کروڑ روپے کی مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے میں ایک معروف ٹریول کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کانگریس کے رہنما سنیل کمار کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق سنیل کمار کو بدھ کی صبح تحویل میں لیا گیا اور بعد ازاں نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جی ایس ٹی انٹیلی جنس افسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ میں ان کے کاروباری لین دین سے متعلق بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ یہ کارروائی ریاست بھر میں جاری جی ایس ٹی ٹیکس چوری کے خلاف مہم کے تحت کی گئی۔ تفتیش کے دوران حکام کو سنیل کمار سے وابستہ فائلنگ میں سنگین بے ضابطگیاں ملیں، جس کے بعد گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا۔
سیاسی ردعمل | GST Arrest
سنیل کمار نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بالکنڈہ حلقے سے کانگریس امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا۔ وہ یہ انتخاب بی آر ایس کے امیدوار ویمولا پرشانت ریڈی سے ہار گئے تھے، تاہم وہ سیاست میں سرگرم رہنے کے ساتھ ساتھ بڑے کاروباری منصوبے بھی چلا رہے تھے۔
ان کی گرفتاری کے بعد سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے ریاستی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیکس معاملات پر سختی بڑھتی جا رہی ہے۔
تفتیش جاری | GST Arrest
جی ایس ٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ سنیل کمار کے مالی معاملات کی جانچ ابھی جاری ہے۔ افسران کے مطابق دیگر کاروباری شخصیات اور سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کے ریکارڈز بھی کھنگالے جا رہے ہیں، جہاں ٹیکس میں کوتاہی کا شبہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ کارروائی کا انحصار دستیاب دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد پر ہوگا۔ تفتیش مکمل ہونے تک مزید گرفتاریوں یا قانونی اقدامات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
