Read in English  
       
Harmony Assurance

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتیں محمد علی شبیر نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ کانگریس قیادت والی حکومت نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

یہ بات انہوں نے جماعتِ اسلامی ہند تلنگانہ کے نو منتخب صدر محمد اظہرالدین سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ ملاقات جوبلی ہلز میں ان کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں اظہرالدین نے تنظیم کی نئے سال کی ڈائری پیش کی اور بعد ازاں شبیر علی نے انہیں شال اور گلدستہ دے کر تہنیت پیش کی۔

تقسیم کرنے والی قوتوں پر لگام | Harmony Assurance

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تلنگانہ کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیا۔ محمد اظہرالدین نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کے لیے نئے قانون کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ مطالبہ جماعتِ اسلامی ہند کی جانب سے وزیر اعلیٰ سے اکتوبر میں ہونے والی ملاقات میں اٹھایا گیا تھا۔

شبیر علی کی جانب سے اس معاملے کی پیروی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اظہرالدین نے کہا کہ مجوزہ قانون نفرت انگیز بیانات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا اور اقلیتی طبقات کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا۔

Harmony Assurance

حساس موضوعات پر غیر ضروری تنازعات | Harmony Assurance

دونوں رہنماؤں نے سماج میں پولرائزیشن کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ’وندے ماترم‘ اور الحاد جیسے حساس موضوعات پر جاری مباحث کا حوالہ دیا۔ شبیر علی نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ پر کوئی حقیقی تنازع موجود نہیں اور بعض عناصر عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پرانے موضوعات کو دوبارہ اچھال رہے ہیں۔

انہوں نے نغمہ نگار جاوید اختر کے الحاد سے متعلق خیالات پر پیدا کی گئی بحث کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ غیر مذہبی سوچ تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے، اسے سنسنی خیز بنانے کی ضرورت نہیں۔

شبیر علی نے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میڈیا کے کچھ حلقے فرقہ وارانہ بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ عوام کو اصل مسائل سے دور رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس تلنگانہ حکومت این جی اوز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جامع ترقی کے لیے پُرعزم ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ ریاست کی ترقی سے تمام طبقات یکساں طور پر مستفید ہوں۔