حیدرآباد: حیدرآباد پولیس کے سائبر کرائم یونٹ نے شہریوں کو تہواروں کے موسم میں ہوشیار رہنے کی ہدایت دی ہے، کیونکہ اس دوران سائبر مجرم جعلی ای کامرس لنکس، نقصان دہ موبائل ایپس اور فِشنگ ویب سائٹس کے ذریعے خریداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، دھوکے باز عوام کے تہواری جوش کا فائدہ اٹھا کر بینکنگ اور ذاتی معلومات چوری کر رہے ہیں، جس سے مالی نقصان کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔
جعلی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے فراڈ | Festive Season Cyber Fraud
پولیس حکام نے بتایا کہ سائبر مجرم ایسے موبائل ایپس اور ویب سائٹس تیار کر رہے ہیں جو اصلی شاپنگ پورٹلز جیسی نظر آتی ہیں۔ یہ لنکس واٹس ایپ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔ صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے بڑی رعایتوں اور تہواری آفرز کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔
جیسے ہی متاثرہ افراد ان جعلی اے پی کے فائلز کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، وائرس یا میل ویئر موبائل میں داخل ہو کر ذاتی اور بینکنگ ڈیٹا چوری کر لیتا ہے۔ پولیس کے مطابق، دھوکے باز اکثر فِشنگ لنکس کے ذریعے جعلی ادائیگی گیٹ ویز بنا کر کارڈ کی تفصیلات یا او ٹی پی مانگتے ہیں، جنہیں استعمال کر کے وہ فوراً رقم منتقل کر دیتے ہیں۔
جعلی تحائف اور سوشل میڈیا اسکیمز میں اضافہ | Festive Season Cyber Fraud
پولیس نے خبردار کیا کہ اب نئے طریقے سے “جیتے ہوئے تحفے” یا “خصوصی انعام” کے نام پر پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، جن میں صارفین سے پراسیسنگ فیس یا بینک تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔ ادائیگی کے بعد صارفین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اسی طرح جعلی سوشل میڈیا صفحات پر مشہور برانڈز کی رعایتی مصنوعات فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں، مگر ادائیگی کے بعد نہ پروڈکٹ ملتی ہے نہ صفحہ باقی رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، سکندرآباد کی 29 سالہ خاتون نے جعلی دیوالی گفٹ آفر میں 1,40,000 روپئے گنوا دیے، جبکہ اعظم پورہ کے 69 سالہ شہری کو جعلی Blinkit ایپ کے ذریعے 1,02,194 روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
عوامی احتیاط اور پولیس کی ہدایات | Festive Season Cyber Fraud
پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ نامعلوم لنکس پر کلک نہ کریں اور غیر مصدقہ ذرائع سے ایپس انسٹال کرنے سے گریز کریں۔ خریداری کے لیے صرف معتبر ویب سائٹس استعمال کریں، اور اجنبی نمبروں یا پیغامات کے ذریعے موصول ہونے والی آفرز پر یقین نہ کریں۔
افسران نے دوہری توثیق (Two-Factor Authentication) کے استعمال کی بھی سفارش کی ہے تاکہ بینک اکاؤنٹس اور آن لائن شاپنگ پروفائلز محفوظ رہیں۔
اگر کوئی شخص سائبر فراڈ کا شکار ہو جائے تو اسے فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر کال کرنی چاہیے یا ویب سائٹ [www.cybercrime.gov.in](http://www.cybercrime.gov.in) پر شکایت درج کرنی چاہیے تاکہ لین دین کو منجمد کیا جا سکے۔
آخر میں، پولیس کمشنر وی۔ سی۔ سجنار نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آن لائن محتاط رہیں اور تہواری جوش میں سائبر دھوکے بازوں کے جال میں نہ پھنسیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر تہواروں کے دوران جب آن لائن خریداری بڑھ جاتی ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری یہ ہدایات عوام کو مالی نقصان سے بچانے کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہیں۔



































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































