حیدرآباد: سنکرانتی کے موقع پر پتنگ بازی کے دوران خطرناک ڈور کے استعمال کے خلاف سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے عوام کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی نہ صرف انسانوں بلکہ پرندوں کی جان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پولیس کے مطابق چند لمحوں کی غفلت خوشیوں کو المیے میں بدل سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری حفاظتی پیغام میں کمشنر نے کہا کہ پتنگ بازی ہماری ثقافت کا خوبصورت حصہ ہے۔ تاہم خطرناک ڈور کے استعمال نے اسے بائیک سواروں اور پرندوں کے لیے مہلک بنا دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوشی مناتے وقت ذمہ داری کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
خطرناک ڈور پر مکمل پابندی | Kite Safety
کمشنر کے مطابق چائنا مانجھا، جو شیشے یا دھات سے لیس مصنوعی ڈور ہوتی ہے، مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس کی خرید و فروخت اور استعمال پر ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ڈور سے گہرے زخم لگنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں بعض اوقات قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
انہوں نے خاص طور پر دو پہیہ گاڑیاں چلانے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی۔ ایسے واقعات میں گردن اور ہاتھوں پر خطرناک کٹ لگنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
بجلی کی تنصیبات اور بچوں کی حفاظت | Kite Safety
پولیس نے بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمروں کے قریب پتنگ نہ اڑانے کی بھی تلقین کی۔ اگر پتنگ بجلی کی تاروں میں پھنس جائے تو گیلی ہاتھوں یا لوہے کی سلاخوں سے نکالنے کی کوشش جان لیوا جھٹکوں کا سبب بن سکتی ہے۔ شہریوں کو ایسے حالات میں فوری طور پر متعلقہ محکمے کو اطلاع دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
والدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ بغیر حفاظتی دیوار والی چھتوں پر بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ پتنگ پر توجہ مرکوز ہونے کے باعث بچوں کے بلندی سے گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق بچوں پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہے۔
پولیس نے ممنوعہ ڈور کی فروخت اور استعمال کے خلاف نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ شہریوں کو صرف سوتی ڈور استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ انسانوں اور جانوروں دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
