حیدرآباد: ریاستی حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی کی ترقی کے لیے 1000 کروڑ روپئے منظور کر کے باضابطہ احکامات جاری کر دیے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کے اس وعدے کی تکمیل ہے جس میں انہوں نے کیمپس کی جامع بہتری کا اعلان کیا تھا۔ منظوری کے فوراً بعد انہوں نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اور آرٹس کالج عمارت کے قریب منعقدہ “سروَم سدھم” میٹنگ میں شرکت کی۔
حکومت نے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ تمام کام طے شدہ مدت میں مکمل کیے جائیں۔ طلبہ اور اساتذہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے دیرینہ مطالبات کی تکمیل قرار دیا۔
کیمپس اپ گریڈ اور بڑے ترقیاتی منصوبے | OU Development
سرکاری فنڈز کے ذریعے یونیورسٹی کی بنیادی ڈھانچہ جاتی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع ڈی پی آر تیار کی گئی ہے جس میں طلبہ اور فیکلٹی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں ہاسٹلوں کی جدید کاری، نئے تعلیمی بلاکس کی تعمیر اور طلبہ سہولیات میں اضافہ شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران ترقیاتی خاکے کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ اقدامات ادارے کی تاریخی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ منظوری یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
عثمانیہ یونیورسٹی کی بحالی کی جانب اہم قدم | OU Development
عہدیداروں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت پینے کے پانی، نقل و حمل، اسمارٹ کلاس رومز اور ریسرچ سہولیات میں بہتری شامل ہے۔ کیمپس کی مجموعی جدید کاری سے نہ صرف تعلیمی معیار بلند ہوگا بلکہ یونیورسٹی کی قومی و بین الاقوامی شناخت بھی مضبوط ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی مواقع پیدا کرے گی۔ اس کے علاوہ، کیمپس کی بحالی سے مستقبل میں مزید تحقیقی سرگرمیوں اور تعاون کے راستے بھی کھلیں گے۔
