Read in English  
       
Energy Tech Unit

حیدرآباد ۔ ریاستی وزیر برائے آئی ٹی و صنعت دودیلا سریدھر بابو نے جمعرات کے روز ضلع سدی پیٹ میں ایک جدید توانائی ٹیکنالوجی یونٹ کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح ٹی جی آئی آئی سی صنعتی پارک میں منعقد ہوا، جہاں اس منصوبے کو ریاستی صنعتی ترقی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس موقع پر حکام نے اس یونٹ کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا مظہر قرار دیا۔

پس منظر کے طور پر، یہ یونٹ آزاد-سنٹر آف ایکسی لینس اور انوویشن سنٹر میں قائم کیا گیا ہے، جو ملگو منڈل کے تونیکی بولارم گاؤں میں واقع ہے۔ کمپنی نے اس منصوبے کو 7,600 مربع میٹر کے رقبے پر تیار کیا ہے، جس سے اس کی وسعت اور تکنیکی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ مزید برآں، اس اقدام کو صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ یونٹ Baker Hughes کے زیر انتظام کام کرے گا، جو 120 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی تیل و گیس خدمات، صنعتی و توانائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل حل کے شعبوں میں سرگرم ہے۔ اس تناظر میں، اس کا تلنگانہ میں سرمایہ کاری کرنا ریاست کے لیے ایک اہم عالمی شراکت داری کی علامت ہے۔

مزید یہ کہ نیا توانائی ٹیکنالوجی یونٹ صنعتی و توانائی ڈویژن کے لیے اعلیٰ معیار کے پرزے تیار کرے گا۔ حکام کے مطابق، یہ منصوبہ ریاست میں جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا۔ اسی دوران، اس یونٹ کے ذریعے 230 سے زائد ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جو مقامی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

صنعتی ترقی میں نئی رفتار | Energy Tech Unit

وزیر نے کہا کہ اس نوعیت کی سرمایہ کاری تلنگانہ کو عالمی مینوفیکچرنگ کے نقشے پر مزید مستحکم کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ یونٹ “میڈ اِن تلنگانہ” کے تصور کو وسعت دے گا اور ریاستی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرائے گا۔ تاہم، اس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور پالیسی تعاون ضروری ہے۔

مزید برآں، حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ اعلیٰ قدر کی صنعتوں کو راغب کرنے کی ریاستی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق، اس سے نہ صرف نئی ٹیکنالوجی آئے گی بلکہ جدت اور تحقیق کو بھی فروغ ملے گا۔ اسی طرح، یہ اقدام صنعتی شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

جدت اور معیشت کا فروغ | Energy Tech Unit

حکام نے واضح کیا کہ یہ یونٹ مقامی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے ریاست میں تکنیکی مہارت کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً، تلنگانہ صنعتی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

اختتامیہ میں کہا گیا کہ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ ریاست کی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ اقدام مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔