Family Poisoning
حیدرآباد ۔ ضلع کھمم میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں 2 کمسن بھائی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس اور مقامی افراد کے مطابق ایڈولاپورم میونسپلٹی کے گُرّلاپاڈو سے تعلق رکھنے والے بوبلی لنگاراجو اور ان کی اہلیہ سواتھی گزشتہ چند ماہ سے کھمم کے گاندھی نگر علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے 2 بیٹے، 7 سالہ ویدک کمار اور 4 سالہ تنیش تھے۔
لنگاراجو ایک موبائل فون کی دکان میں ملازمت کرتے تھے اور اسی آمدنی سے خاندان کی کفالت کر رہے تھے۔ تاہم حال ہی میں دکان کے مالک نے مبینہ طور پر مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کاروبار جاری رکھنے میں دشواری ظاہر کی اور انہیں متبادل روزگار تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔
خاندانی اختلافات کے بعد افسوسناک پیش رفت | Family Poisoning
اطلاعات کے مطابق روزگار کی صورتحال کے باعث خاندان کے آبائی گاؤں واپس منتقل ہونے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ مزید برآں پولیس کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر میاں بیوی کے درمیان 2 دن تک اختلافات جاری رہے۔
تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ اسی دوران سواتھی نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں بچوں کو چوہا مار دوا ملے بسکٹ کھلا دیے۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
بعد ازاں سواتھی نے اپنے شوہر کو اطلاع دی کہ بچوں کو قے ہو رہی ہے اور فوری گھر آنے کو کہا۔ لنگاراجو ایک میڈیکل اسٹور سے دوا خرید کر گھر پہنچے اور بچوں کو دوا دی، لیکن ان کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔
پولیس تحقیقات جاری، والدہ کی حالت تشویشناک | Family Poisoning
پولیس کے مطابق 7 سالہ ویدک کمار ہفتہ کی رات نیند کے دوران انتقال کر گئے۔ دریں اثنا 4 سالہ تنیش کی طبیعت اتوار کی صبح مزید خراب ہونے پر انہیں ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کا بھی انتقال ہوگیا۔
مزید یہ کہ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی حالت بگڑنے کے دوران سواتھی نے بھی مبینہ طور پر چوہا مار دوا استعمال کی۔ مقامی افراد انہیں فوری طور پر اسپتال لے گئے جہاں ان کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔
کھمم تھری ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام واقعے کی مکمل ترتیب اور اس کے پس منظر کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
دوسری جانب 2 کمسن بھائیوں کی موت نے اہل خانہ، رشتہ داروں اور مقامی مکینوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ علاقے میں سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ لوگ اس افسوسناک واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں۔
