Read in English  
       
Bank Accounts

حیدرآباد: بھارت میں نئے سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک بھر کے کروڑوں بینک صارفین کے لیے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یکم جنوری 2026 سے کئی غیر فعال بینک اکاؤنٹس بند کیے جا سکتے ہیں۔

آر بی آئی کی جانب سے جاری نئی ہدایات کے مطابق وہ اکاؤنٹس جو تازہ ضوابط پر پورا نہیں اترتے، انہیں بند کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بینکاری نظام میں شفافیت بڑھانا اور ڈیجیٹل فراڈ و مالی بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنا ہے۔

کن اکاؤنٹس کو خطرہ ہے | Bank Accounts

نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت بینک تین اقسام کے اکاؤنٹس کا جائزہ لیں گے۔ پہلی قسم ڈورمینٹ اکاؤنٹس کی ہے، جن میں دو مسلسل برسوں تک کوئی جمع یا نکاسی نہیں ہوئی ہو۔ حکام کے مطابق ایسے اکاؤنٹس کے غلط استعمال کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، اسی لیے انہیں مستقل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

دوسری قسم غیر فعال اکاؤنٹس کی ہے، جن میں 12 ماہ تک کوئی لین دین نہیں ہوا۔ اگر اکاؤنٹ ہولڈرز نے انہیں دوبارہ فعال نہ کیا تو بینکاری خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

تیسری قسم صفر بیلنس اکاؤنٹس پر مشتمل ہے، جو طویل عرصے سے غیر فعال ہیں اور جن کی کے وائی سی تفصیلات اپ ڈیٹ نہیں۔ انتظامی بوجھ کم کرنے کے لیے بینک ایسے اکاؤنٹس بند کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔

فراڈ روکنے کے لیے سختی | Bank Accounts

آر بی آئی کے مطابق غیر استعمال شدہ بینک اکاؤنٹس منی لانڈرنگ اور سائبر فراڈ کے لیے استعمال ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کو فعال رکھیں اور کے وائی سی تفصیلات باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔

اکاؤنٹ بند ہونے سے بچنے کے لیے صارفین کو کم از کم ایک لین دین کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جیسے معمولی رقم جمع کروانا یا نکالنا۔ حتیٰ کہ یو پی آئی کے ذریعے ایک چھوٹی ڈیجیٹل ادائیگی یا اے ٹی ایم سے رقم نکالنا بھی اکاؤنٹ کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔

حکام کے مطابق صارفین کو اپنے متعلقہ بینک برانچ سے رجوع کر کے یہ بھی تصدیق کرنی چاہیے کہ ان کی کے وائی سی معلومات تازہ ہیں یا نہیں۔