Read in English  
       
Silver Fraud Gang

حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے مہانکالی علاقے میں چاندی کے بڑے فراڈ کیس میں پولیس نے 4 افراد پر مشتمل ایک بین الریاستی گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کیس میں تقریباً ₹15 لاکھ کی دھوکہ دہی سامنے آئی ہے، جس نے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی۔ تاہم پولیس کی کارروائی نے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ کیس 25 مارچ 2026 کو اس وقت درج کیا گیا جب سکندرآباد کے ایک چاندی کے تاجر نے شکایت درج کروائی۔ اس نے بتایا کہ 2 افراد باقاعدہ گاہک بن کر آئے اور جعلی چاندی کے بدلے اصل چاندی حاصل کر کے فرار ہو گئے۔ مزید برآں انہوں نے جعلی دستاویزات کے ذریعے اعتماد حاصل کیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان 3 خام چاندی کی سلاخیں لائے جن کی خالصیت 60 فیصد سے زائد ظاہر کی گئی۔ انہوں نے ایک مقامی ریفائنری کا جعلی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا، جس کی بنیاد پر تاجر نے 6.35 کلوگرام خالص چاندی حوالے کر دی۔ تاہم بعد میں جانچ سے معلوم ہوا کہ فراہم کردہ مواد میں چاندی بالکل موجود نہیں تھی۔

اعتماد کے ذریعے فراڈ کی حکمت عملی | Silver Fraud Gang

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان ایک منظم طریقہ کار استعمال کرتے تھے۔ ابتدا میں وہ اصل لین دین کر کے اعتماد حاصل کرتے، تاہم بعد میں جعلی مواد فراہم کر کے بڑے پیمانے پر دھوکہ دیتے تھے۔ اس طرح وہ متاثرین کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔

مزید یہ کہ اسی طرز کے 2 مزید کیسز بھی مہانکالی اور مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں درج کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 12 کلوگرام سے زائد چاندی کا نقصان ہوا۔ اس پیش رفت نے گینگ کے وسیع نیٹ ورک کو واضح کر دیا ہے۔

بین الریاستی نیٹ ورک اور گرفتاریاں | Silver Fraud Gang

پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے ہے۔ مرکزی ملزم کو 20 اپریل کو آگرہ سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ٹرانزٹ وارنٹ حاصل کیا گیا۔ بعد ازاں مزید 2 افراد کو آگرہ جبکہ ایک کو ایٹاوا سے گرفتار کیا گیا۔

اسی دوران پولیس نے 8.4 کلوگرام چاندی، ₹1.5 لاکھ نقد رقم اور کئی موبائل فون برآمد کیے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ گینگ دہلی، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں بھی اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ایک ملزم کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی مدھیہ پردیش میں درج ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی سکندرآباد زون کے سینئر افسران کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم نے انجام دی۔ مزید برآں تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر روابط کو بھی سامنے لایا جا سکے۔

آخر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے فراڈ کو بے نقاب کیا، تاہم اس طرح کے جرائم سے بچنے کے لیے کاروباری افراد کو بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا تصدیق شدہ دستاویزات اور مکمل جانچ پڑتال کے بغیر لین دین سے گریز کرنا ضروری ہے۔