Read in English  
       
AI Education Programme

حیدرآباد ۔ ریاستی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفشیل انٹلیجنس اے آئی) کی تعلیم متعارف کراتے ہوئے طلبہ کو مستقبل کی تکنیکی ضروریات کے لیے تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ چنانچہ حکام نے اس پروگرام کو تعلیمی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایمیزون فیوچر انجینئر اور پائی جام فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ مزید برآں، اس پروگرام کے تحت تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں 2,000 لیپ ٹاپس کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ، آئی او ای اور کیور اسکولوں میں تقسیم کیے گئے۔ یہ آلات ایم سی آر ایچ آر ڈی انسٹی ٹیوٹ میں سیکریٹری یوگیتا رانا اور ڈائریکٹر نوین نکولس نے طلبہ کے حوالے کیے۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ کلاس روم میں سیکھنے کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ علاوہ ازیں طلبہ کو عملی ٹیکنالوجی مہارتیں حاصل ہوں گی۔

وسیع پیمانے پر تربیت کا منصوبہ | AI Education Programme

یوگیتا رانا نے کہا کہ حکومت طلبہ کو تیزی سے بدلتی دنیا کے لیے تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں بلکہ اس کے اصول سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ حقیقی مسائل حل کر سکیں۔

مزید برآں، محکمہ تعلیم نے کلاس 5 سے 9 تک کے طلبہ کے لیے ایک ڈیجیٹل نصاب تیار کیا ہے جسے ایس سی ای آر ٹی نے ترتیب دیا ہے۔ اسی دوران تقریباً 28,000 اساتذہ کو اس پروگرام کی مؤثر تدریس کے لیے تربیت دی گئی ہے۔

جدید مہارتوں کا فروغ | AI Education Programme

طلبہ کو ایک مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک رسائی دی جائے گی جہاں وہ اپنی مہارتوں کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔ مزید یہ کہ ہر سال 20 سے 25 گھنٹوں پر مشتمل منظم اے آئی تعلیم فراہم کی جائے گی۔

اس پروگرام میں ڈیزائن تھنکنگ، کمپیوٹیشنل تھنکنگ اور ڈیجیٹل شہریت جیسے اہم تصورات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نتیجتاً طلبہ نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط ہوں گے بلکہ ذمہ دار ڈیجیٹل شہری بھی بن سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تلنگانہ کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے میدان میں ایک مثالی ریاست بنا سکتا ہے۔ اس موقع پر سماگرا شکشا کے نمائندوں اور ایمیزون کے شراکت داروں سمیت اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔