Read in English  
       
Forest Bribery

حیدرآباد ۔ تلنگانہ اینٹی کرپشن بیورو نے بھدراچلم میں محکمہ جنگلات کے 2 افسران کو مبینہ رشوت خوری کے معاملے میں گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ملزمان نے ایک شکایت کنندہ سے ₹3.5 لاکھ وصول کیے تھے۔ مزید برآں اس کارروائی نے ریاستی سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے معاملات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

گرفتار افسران میں بھدراچلم کی فاریسٹ ڈویژنل آفیسر سنتھا پوری سجاتا اور ڈپٹی رینج آفیسر بھوکیا کرشنا شامل ہیں۔ بھوکیا کرشنا چارلا کے انچارج فاریسٹ رینج آفیسر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے تھے۔ اے سی بی حکام کے مطابق دونوں افسران نے ابتدا میں شکایت کنندہ سے ₹10 لاکھ رشوت طلب کی تھی، تاہم بعد میں مبینہ طور پر رقم کم کرکے ₹3.5 لاکھ کر دی گئی۔

سڑک تعمیراتی کام پر تنازع | Forest Bribery

اے سی بی کے مطابق ملزمان نے سڑک بچھانے کے کام کے دوران جنگلاتی درختوں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات درج نہ کرنے کے بدلے رشوت طلب کی تھی۔ شکایت کنندہ نے 2025 میں چارلا منڈل کے پوسوگپہ گاؤں سے چھتیس گڑھ سرحد تک 2 کلومیٹر بی ٹی روڈ تعمیر کیا تھا۔ تاہم اس منصوبے کے دوران محکمہ جنگلات کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے تھے۔

حکام کے مطابق ملزمان نے شکایت کنندہ کو یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ وہ اس کے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اسی دوران اے سی بی نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ مزید یہ کہ تحقیقات کے دوران نشان زدہ کرنسی دوسرے ملزم کے قبضے سے برآمد کی گئی۔

اے سی بی کی تحقیقات جاری | Forest Bribery

اے سی بی حکام نے دونوں افسران کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ لہٰذا متعلقہ ریکارڈ اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات سے وابستہ افسران کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ رشوت خوری کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی تاکہ عوامی اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔